اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 133 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 133

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 133 ایک جگہ موجود تھی۔آج سیاست اور حکومت کے بل بوتے پر وہ لوگ مذہب کا فیصلہ کرنے چلے تھے اور تکبر ظلم اور تعدی میں حد سے گزرتے ہوئے خدا تعالیٰ کا کام اپنے ہاتھ میں لے چکے تھے۔وہ لوگ جائز اور ناجائز اور بیچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔ان کے اکٹھا ہونے کا مقصد ایک ہی تھا کہ اس مشن کو کسی طرح بند کرنے کی کوئی ترکیب نکالی جائے اور اس کام کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کرنے کے لیے تیار تھے۔وہ آج کی میٹنگ سے پہلے کتنے ہی حربے آزما چکے تھے اور نا کام ہو چکے تھے۔پس آج کوئی بھی تدبیر ، ہاں جائز یا ناجائز کوئی بھی تدبیر ہو تو لاؤ۔کوئی ممکن العمل بات پیش کرو۔ابھی ابوسفیان کی روایت کا ذکر گزرا ہے۔اسی روایت میں یہ ذکر ہے کہ ابو سفیان کہتا تھا کہ میں جھوٹ بولنا چاہتا تھا مگر مجھے کوئی موقع نہیں مل رہا تھا۔گویا جانتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سچے ہیں اور اس کی گواہی بھی دے رہا ہے اور پھر بھی کوشش یہ جاری ہے کہ کسی بھی طرح ، جھوٹ سے ہی سہی ، بس اس آواز کو دبا لیا جائے۔آج ایک ابوسفیان اس بددیانتی کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ تمام قیادت متفقہ طور پر کوشش کر رہی ہے۔آج کسی ہرقل کا خوف نہیں تھا۔پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ وہ ایسی قوم تھی جس کے فسق و فجور کی دُنیا آج بھی شاہد ہے۔اسلام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے اس وحشی قوم کی قیادت آج جمع تھی جن کے پاس کوئی ضابطہ اخلاق نہ تھا۔مذہب وعقیدہ کے اختیار کی آزادی تو انسان کا بنیادی حق ہے اور وہ ظالم حکومت اور طاقت کے زور پر یہ حق بھی چھین رہے تھے۔سچ جھوٹ کا سوال نہیں تھا بس کسی بھی ایسی تدبیر کی تلاش تھی جو کارگر ہو، خواہ جائز ہو یا نا جائز۔وہ حیران تھے کہ دنیا کو مد (ﷺ) کے بارہ میں کیا کہیں۔مختلف تدابیر زیر غور تھیں۔جب یہ بات چلی کہ دنیا کو یہ کیوں نہ کہہ دیا جائے کہ جھوٹ گھڑا جارہا ہے۔تو اُن میں سے ایک سردار نضر بن الحارث اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی مان جائے۔محمد (ﷺ) کے اعلیٰ اخلاق اور اس کی صداقت اور امانت ہی تو ایک ایسا عنوان ہے جس پر قوم متفق ہے۔یہی تو سب سے بڑی روک ہے۔پس یہ کہنا کہ محمد ( نعوذ باللہ ) جھوٹا ہے گویا یہ کہنا تھا کہ اہل مکہ سب کے سب جھوٹے ہیں جو مد (ﷺ) کو سچا کہتے ہیں۔کون ہے جو ہم چند لوگوں کی بات مان کر ساری قوم کو جھوٹا کہے گا ؟ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا ایک قوم کی متفقہ شہادت کو جھٹلا نا تھا۔ہاں محمد مگا صادق اور امین ہونا ہی تو وہ حوالہ تھا جو ان کی شیطانی چالوں کے آگے روک بنا ہوا تھا۔چنانچہ فوراً ہی اس تدبیر کو اتفاق رائے سے رڈ کر دیا گیا۔اس گواہی کی عظمت کا صحیح اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارے علم میں یہ بات آتی ہے کہ نضر بن الحارث ان نو افراد میں سے ایک تھا جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قتل کی سازش کی تھی۔اس گواہی کا یہ مطلب ہے کہ گویا نضر بن الحارث کے لیے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جھوٹا قرار دینے کی نسبت آپ کو قتل کرنا آسان تھا۔آپ کا سب سے بڑا دشمن، ابو جہل جس نے اپنی زندگی اس مشن کی تباہی کے لیے وقف کر دی تھی، جب بھی الله