اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 132 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 132

الذكر المحفوظ 132 اس موقعہ پر یہ کہ سکتی ہے کہ اس وقت تک قوم کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔اس لیے سب نے آپ کی صداقت کی گواہی دے دی۔مگر ہم کہتے ہیں کہ اس کی قوم تو 13 سال تک اس کے دعوی کے بعد بھی اسے سچاہی بجھتی رہی اور یہی گواہی دیتی رہی۔ابو جہل کا وہ قول کیوں بھلا دیتے ہو انــا لا نـــذبـک ولکن نكذب بما جئت به یعنی اے محمدہم مجھے جھوٹا نہیں کہتے۔ہم تو اس تعلیم کا انکار کرتے ہیں جوتو لایا ہے۔(ترمذى ابواب التفسير باب ومن سورة الانعام ) ہر قل کے دربار میں ابوسفیان کی گواہی بھی ایک نا قابل تردید ثبوت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بارہ میں اپنوں اور بیگانوں میں متفق علیہ یقین تھا کہ آپ کامل طور پر صادق انسان ہیں۔چنانچہ جب ابوسفیان سے ہر قل نے پو چھا کہ کیا محمد ( ﷺ) نے کبھی جھوٹ بولا ہے تو اس نے واضح طور پر کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔چنانچہ بخاری میں ہے: هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل ان يقول ما قال قلت لا (بخاری کتاب بدء الوحي باب بدء الوحى) ( ابوسفیان کہتا ہے کہ قیصر نے پوچھا کہ ) کیا تم اُس پر اُس کے اس دعوی سے قبل جھوٹا ہونے کا الزام لگاتے تھے؟ تو میں نے جواب دیا؟ نہیں۔ہر قل ایک جہاندیدہ اور عقل مند آدمی تھا وہ سمجھتا تھا کہ دعوی کے بعد تو اہل مکہ کچھ بھی کہتے ہوں گے کیونکہ دعویٰ کے بعد تو دشمنی پیدا ہوگئی ہے اور تو مخالف جھوٹ کا الزام لگا سکتے ہیں لیکن اگر دعوی سے قبل آپ کو سچا سمجھا جاتا تھا تو پھر ناممکن ہے کہ روز مرہ زندگی کے معاملات میں سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینے والا شخص خدا تعالیٰ کے معاملہ میں راستی اور راستبازی کو چھوڑ دے۔دیکھنے والی بات ہے کہ کیا اس دعوی سے قبل وہ محمد (ﷺ) کی طرف کوئی جھوٹ منسوب کرتے تھے کہ نہیں۔چنانچہ جب ابوسفیان نے باوجود دشمن ہونے کے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی گواہی دی تو ہر قل نے کیا خوب کہا: الله فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكْذِب عَلَى اللَّهِ (بخاری کتاب بدء الوحي باب بدء الوحى) یعنی میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ جو شخص بنی نوع کے معاملات میں جھوٹ نہیں بولتا ناممکن ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے معاملہ میں جھوٹ بولے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ساری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ اس پیغام کی پوری دیانت داری سے حفاظت کی جسے آپ خدا کا پیغام کہتے تھے۔بالکل اسی طرح جس طرح آپ اہل مکہ کی امانتوں کی حفاظت کرتے تھے۔کیا دشمن آنکھ کوئی ایک مثال دیکھ سکتی ہے ، کوئی ایک مثال کہ جب آپ غلط بیانی یا دھوکہ دہی سے کام لیا ہو؟ وہ وقت تو یاد کریں جب کہ اہل مکہ کی چوٹی کی قیادت اس مسئلہ کو سلجھانے کے لیے