اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 131 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 131

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 131 شریک تھے۔انہوں نے اپنی آنکھوں کو تو جھٹلا دیا جو ابھی ابھی سب کچھ دیکھ آئی تھیں اور ”صادق“ کی خبر کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور اپنی آنکھوں سے زیادہ ”آمین“ پر اعتماد کیا۔کیا کوئی اور مثال ہے کہ پوری قوم کے لوگ اپنی اپنی ذات پر یقین کرنے سے زیادہ کسی ایک انسان کی صداقت پر یقین رکھتے ہوں؟ اس اعلان کو وہ لوگ سُن رہے تھے جو ابھی صحرا سے لوٹے تھے اور اب اس کی بات سُن رہے تھے جس کی شہادت پر اپنی آنکھوں کی شہادت سے زیادہ اعتبار تھا۔تاریخ میں کسی کی صداقت پر اتنی مضبوط گواہی کوئی اور ہے تو سامنے لاؤ۔تاریخ کے صفحات میں صرف ایک انسان ہی اس شان کا ہے اور بس۔پس جب فرمایا اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشک تمہاری تباہی کی غرض سے جمع ہے تو کیا تم مان لو گے؟ سب نے بیک زبان کہا ہاں کیوں کہ آپ صادق اور امین ہیں۔کیا ہی عظیم گواہی دی اس قوم نے اس موقع پر کہ ما جربـنـا عليك الاصدقا“ (بخارى كتاب سیر القرآن باب انذر عشیرتک الاقربین [الشعراء: 132]) کہ آپ کی ذات سے ہمیں ہمیشہ سچ ہی کا تجربہ ہوا ہے۔وہ عرب کے وہ بدو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی چالیس سالہ زندگی کی تاریخ اور اس قانون شہادت کو کس طرح جھٹلا سکتے تھے جن کی گواہ تین نسلیں وہاں موجود تھیں۔وہ بظاہر ایک جاہل اور وحشی قوم تھی مگر دلیل اتنی واضح ، آسان فہم اور قوی پیش کی جارہی تھی کہ بظاہر ایک بعید از قیاس بات بھی ماننے پر مجبور تھے۔حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اپنی گزشتہ زندگی کا حوالہ دے کر قوم سے بات کر رہے تھے جو حوالہ ماننے پر اس معاشرہ کا ہر شخص مجبور تھا۔اللہ اللہ کس شان کی گواہی ہے۔اگر میں کہوں کہ ایک لشکر جرار اس پہاڑ کے پیچھے سے تم پر حملہ کرنے کو تیار کھڑا ہے۔یعنی تم کہ جو ابھی ابھی اس دشت سے لوٹے ہو۔سب کچھ خود دیکھ آئے ہو۔اب بتاؤ اپنی آنکھوں کو جھٹلاتے ہو یا مجھے جھوٹا کہتے ہو؟ بیسیوں سرکس طرح جھک گئے جب وہ پر شوکت آواز بلند ہوئی۔سُننے والے آج بھی ان صداؤں کو سُن سکتے ہیں جو ان جھکی گردنوں کی تھیں کہ بخدا! اپنا آنکھوں دیکھا تو جھٹلا سکتے ہیں مگر اس صدوق کی خبر کو نہیں جھٹلا سکتے۔ہزار ہا اخلاقی گراوٹوں کے باوجود اہل مکہ ابھی ابن وراق کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچے تھے کہ چڑھتے سورج کا انکار کر دیں۔یہی تو وہ قانون شہادت ہے جس پر آج تک دُنیا قائم ہے۔یہاں ابن وراق کے اس کتاب کے لکھنے کے بعد چھپ جانے کی وجہ پھر کھل جاتی ہے کہ ایسی حرکت کر بیٹھا ہے کہ جانتا ہے کہ اس کے بعد دُنیا کو مُنہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر لحاظ سے اس معاشرہ کو یہ موقع دیا کہ وہ آزمالیں ، دیکھ لیں اور گواہ بن جائیں۔چالیس سال کوئی ایسا معمولی عرصہ نہیں کہ اس کی تاریخ عالم میں کوئی مثال مل سکے کہ ایک شخص نے اس عرصہ میں اپنی قوم میں ایک بھر پور سماجی زندگی گزاری ہو اور پھر قوم اس کی صداقت پر ایسی متفق ہوگئی ہو کہ اپنی آنکھوں کو جھٹلانا تو آسان لگے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو جھٹلانا بس میں نہ رہے۔ایک دشمن زبان