اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 128 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 128

الذكر المحفوظ 128 كلا والله ما يخذيك الله ابدا انك لتصل الرحم وتصدق الحديث بخاری کتاب بدء الوحي باب بدء الوحى) یعنی ہرگز نہیں ! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا۔آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور راست گوئی سے کام لیتے ہیں۔اور پھر اس گواہی کو اس وفا شعار بی بی نے شعب ابی طالب کے مصائب سے اٹے ہوئے اور مشکلات سے پُر دور میں رات دن ساتھ رہ کر اور بھی زیادہ مضبوط کیا۔بیوی کی گواہی تو ہم نے دیکھی۔یہ کوئی ایسی گواہی نہیں کہ عام نظروں سے دیکھی جائے۔دن رات کا ساتھ اور 15 سال میں ہزاروں چھوٹے بڑے معاملات میں آپ کے اسوہ کا بنظر غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ گواہی دی جارہی ہے۔اب بیٹی کی گواہی بھی سینے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیٹی حضرت فاطمہ، آپ کی آخری بیماری میں ایک دفعہ آپ کے پاس بیٹھی تھیں۔آپ نے ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ رونے لگ گئیں۔آپ نے پھر ان کے کان میں کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں۔آپ کی وفات کے بعد لوگوں نے ایک مرتبہ رونے اور دوسری مرتبہ ہنسنے کا سبب چھا تو کہا کہ پہلی بار آپ نے یہ خبر دی کہ اسی مرض میں میری وفات ہو جائے گی۔یہ سُن کرمیں رونے لگی۔پھر آپ نے بتایا کہ اہل بیت میں سے میں وہ پہلی فرد ہوں گی جو آپ کے بعد فوت ہو کر آپ سے ملوں گی۔یہ سن کر میں بہنے لگی۔(بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی و وفاته ) ذراغور کیجیے کبھی کوئی اپنی موت کی خبرن کر بھی ہنسا ہے؟ یہ نسی ایک بیٹی کی اپنے باپ کی صداقت کی کتنی بڑی گواہی ہے کہ ساری زندگی اپنے باپ (ﷺ) کو قریب سے دیکھنے کے بعد اسے اپنے باپ (ﷺ) کی سچائی پر پورا پورا یقین ہے کہ جس طرح زندگی میں کبھی غلط بیانی نہیں کی اسی طرح وہ تمام بشارتیں جو اس نے اپنی بیٹی کو بعد الموت اپنی اور بیٹی کی قربت اور جنت کی سیادت کی دی ہیں وہ برحق اور ضرور پوری ہونے والی ہیں۔پس اگر یہ یقین ہو تو پھر کون موت کی خبر ہنس کر نہ سنے گا ؟ بیوی کی گواہی سنی ، بیٹی کی سنی۔اب ذرا ایک قریبی دوست کی گواہی بھی سُن لیجیے۔حضرت ابوبکر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خدا کی طرف سے رسول ہونے کا دعویٰ کیا تو حضرت ابوبکر شہر سے باہر تھے۔جب واپسی کے راستہ میں لوگوں سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے بارہ میں سُنا تو فی الفور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ کیا جو انہوں نے سُنا ہے وہ سچ ہے؟ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے دعوی کی صداقت کے ثبوت میں کچھ کہنا چاہا تو عرض کی کہ صرف یہ بتادیجئے کہ آیا جومیں نے سُنا ہے وہ سچ ہے؟ آپ نے پھر کچھ بتانے کے لیے لب کھولے تو پھر عرض کی صرف یہ بتادیجیے کہ آپ نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو حضرت ابو بکر فوراً ایمان لے آئے اور کوئی دلیل طلب نہ کی اور