اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 127 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 127

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 127 گواہ تھے۔کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص دھوکہ دہی کا مرتکب ہورہا ہو اور اس کے دھو کے میں سب سے پہلے وہ لوگ آئیں جو ا سے سب سے زیادہ جانتے ہوں؟ یہ شہادت ایسی مضبوط ہے کہ کسی دشمن کو بھی اس کے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں۔چنانچہ جان ڈیون پورٹ آپ کے بارہ میں رقم طراز ہیں: "It is strongly corroborative of Mohammed's sincerity that the earliest converts to Islam were his bosom friends and the people of his household, who, all intimately acquainted with his private life, could not fail to have detected those discrepancies which more or less invariably exist between the pretensions of the hypocritical deceiver and his actions at home۔" (John Davenport: An Apology for Mohammed and the Koran, London: 1869 P۔17) یعنی محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے صداقت کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ پر ایمان لانے والے ابتدائی لوگوں میں آپ کے قریبی دوست، گھریلو تعلقات والے افراد تھے جن کا آپ کی ذاتی زندگی سے قریبی واسطہ تھا، جنہیں کبھی کوئی ایسی معمولی سی بات بھی نہیں ملی جو ایک دھوکہ دینے والے کی معاشرتی زندگی اور ذاتی زندگی میں فرق کرتی ہے۔اس حوالہ سے جب ہم آپ کی سوانح پر نظر ڈالتے ہیں تو حیرت انگیز اور ناقابل تردید دلائل کا انبار نظر آتا ہے۔مثلاً آپ نے ایک شوہر کے طور پر زندگی گزاری بیوی انسان کی سب سے قریبی ساتھی ہوتی ہے،اس سے خاوند کی کمزوریاں بھی چھپی نہیں رہ سکتیں اور خوبیاں بھی دوسروں کی نسبت اس کی نظر میں پہلے آجاتی ہیں۔حضرت خدیجہ کی ایک گواہی تو آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارہ میں ہے۔یعنی ایک تو وہ گواہی ہے جو آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تجارت میں دیانت داری اور صداقت کا سن کر عملی انداز میں یوں دی کہ آپ سے شادی کر کے اپنا سب کچھ آپ کو سونپ دیا۔مگر کیا یہ ملی گواہی کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھی؟ کیا آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ سے خلاف واقعہ متاثر ہوئی تھیں؟ نہیں بلکہ یہ گواہی آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ رہنے اور آپ کی زندگی کا قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اور بھی نکھر کر سامنے آئی۔حضرت خدیجہ شادی کے قریباً 15 سال آپ کے ساتھ گزار نے کے بعد بھی کیا گواہی دے رہی ہیں، ملاحظہ کریں۔بخاری کی ایک لمبی روایت ہے جس میں ذکر ہے کہ جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہلی وحی کے بعد انتہائی درجہ احساس ذمہ داری کی وجہ سے گھبرائے ہوئے گھر واپس آئے اور حضرت خدیجہ سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا تو آپ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: