اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 126 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 126

الذكر المحفوظ 126 محمد هست بر بان محمد قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ اور آپ کی راستبازی کو آپ کی صداقت کی ایک دلیل کے طور پر پیش کر کے مخالفین کو ملزم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا أَدْرَكُمْ بِهِ رَفَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِن قَبْلِهِ طَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (يونس: 17) یعنی کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ ہی تمہیں اس بارہ میں کچھ بتا تا۔میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر گزار چکا ہوں۔کیا تمہیں عقل نہیں ؟ ذیل میں ہم آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کے حوالہ سے آپ کی سوانح کا مطالعہ کر کے اس معاملہ میں روشنی حاصل کرتے ہیں کہ آیا اس بلند کردار کا انسان قرآن کریم میں تحریف کا مرتکب ہوسکتا تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سوانح حیات ایک آپ کے دیانت دار ہونے ایسا نا قابل تردید ثبوت ہے جو آپ کی ذات کے حوالہ سے پیدا کیے جانے والے تمام تر شکوک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ایک شخص جو اپنے روزمرہ کے معاملات میں اتنے شفاف کردار کا حامل ہے کہ ساری زندگی کسی ایک جھوٹ اور ادنی سی بھی بد دیانتی کا مرتکب نہیں ہوا ، کیسے ممکن ہے کہ پہلی بددیانتی ہی اتنی بڑی کرے کہ خدا تعالیٰ کے معاملہ میں جھوٹ گھڑ کر بنی نوع کو گمراہ کرنا شروع کر دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم چالیس سال تک ایک ایسے شہر میں سکونت پذیر رہے جو کئی لحاظ سے عرب کا مرکز تھا اور اس مرکزی شہر میں آپ نے ایک بھر پور معاشرتی زندگی گزاری۔ایک ایسی معاشرتی زندگی کہ سارا معاشرہ آپ کی زندگی کے شب و روز کا معائنہ کرنے کے بعد آپ کے اعلیٰ اخلاق اور عادات اور اُجلے چال چلن کا گواہ بن چکا تھا۔زندگی کا کوئی ایک پہلو بھی ایسانہ بچا تھا جودُنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اور لوگوں کے سامنے نہ آیا۔پس اس معاشرہ سے جب ہم آپ کی سیرت کے بارہ میں معلومات اکٹھی کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ گھر سے باہر اور گھر کے اندر ہر جگہ آپ کی عظمت کردار کی گواہیاں بکھری پڑی ہیں۔سب سے پہلے ہم آپ کی صداقت اور دیانت کے حوالہ سے آپ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کی صداقت اور دیانت پر گواہیاں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت کی اور آپ کے امانت دار ہونے کی ایک بہت بڑی دلیل آپ کے ابتدائی اسلام لانے والے صحابہ ہیں۔آپ پر پہلے ایمان لانے والے نہ تو کوئی اجنبی تھے اور نہ ہی نا واقف۔بلکہ سب سے پہلے وہی لوگ ایمان لائے جو آپ کو قریب سے دیکھ اور پر کچھ چکے تھے اور آپ کی زندگی کے لمحہ لمحہ کے