اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 122 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 122

الذكر المحفوظ 122 رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ تعلیم یافتہ کہلاتے ہوئے اور تہذیب کا دعویٰ کرتے ہوئے کروڑوں انسانوں کے روحانی پیشواؤں پر قیاسی باتوں کی بنا پر کس طرح حملہ کر دیتے ہیں۔حالانکہ خود ان لوگوں کے اخلاق اس قدر گرے ہوئے اور ذلیل ہوتے ہیں کہ انسانیت کو ان سے شرم آتی ہے۔ان کی یہ جرات محض اس وجہ سے ہے کہ اس وقت عیسائیوں کو حکومت حاصل ے اور ان کو یہ شرم بھی نہیں آتی کہ جب مسلمان دنیا پر حاکم تھے اور مسیحیوں کا حال اس سے بھی پتلا تھا کہ جو اس وقت مسلمانوں کا مسیحیوں کے مقابل پر ہے اس وقت بھی مسلمانوں نے یسوع ناصری کے بارہ میں سخت الفاظ کبھی استعمال نہیں کیے۔مسلمانوں نے ہزار سال تک مسیحی ممالک پر حکومت کر کے ان کے سردار کی جس عزت کا اظہار کیا کاش مسیحی لوگ دو تین سو سال کی حکومت پر ایسے مغرور نہ ہو جاتے کہ اس نبیوں کے سردار پر اس طرح درندوں کی طرح حملے کرتے اور مسلمانوں کے اس احسان کا کچھ تو خیال کرتے کہ انہوں نے یسوع کے خلاف کبھی جارحانہ قدم نہیں اُٹھایا۔“ ( تفسیر کبیر جلد اول صفحه 253) اس بحث کے دراصل دو پہلو ہیں۔اول یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ بلند کردار اور اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان تھے کہ آپ کی ذات سے ادنیٰ سی بددیانتی کا تصور کرنا بھی محال ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانتداری کی بحث نہیں۔نزول قرآن کے وقت خدا تعالیٰ کی تقدیر اور منشاء کے مطابق حالات ہی ایسے تھے کہ اگر آپ چاہتے بھی تو قرآن کریم میں رد و بدل نہیں کر سکتے تھے۔ذیل میں ہم دونوں پہلوؤں پر باری باری بات کرتے ہیں۔و, جہاں تک ابن وراق کے اس قول کا تعلق ہے جو وہ شیطانی آیات کے قصہ کا ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے کہ یہ قصہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کچھ آیات خرد برد کی ہیں اور پھر اپنے اس لچر اعتراض کو قومی کرنے کے لیے عبد اللہ بن سعد ابی سرح کا قصہ تاریخی طور پر مسخ کر کے پیش کرتا ہے، تو اس ضمن میں عرض ہے کہ ان دونوں واقعات کی حقیقت تو قاری پر روشن ہو گئی ہے پس ان کو بنیاد بنا کر جو نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم دیانتداری کے اعلیٰ معیار پر قائم نہیں تھے ، وہ بھی ڈھے جاتا ہے۔بلکہ نتیجہ اس کے برعکس نکلتا ہے کہ دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مقابلہ انتہائی درجہ کی جھوٹی اور فریب دینے والی قوم سے تھا اور اس واقعہ سے آپ کے مخالفین کی بد دیانتی ظاہر ہوتی ہے۔وہ تو کھلم کھلا تسلیم کرتے تھے کہ جہاں بھی انہیں موقع ملے گا وہ اسلام کو مٹانے کے لیے کوئی بھی جھوٹ گھڑ سکتے ہیں۔چنانچہ ہر قل شاہ حبشہ اور ابوسفیان کے مابین جو بات چیت ہوئی اس میں ابو سفیان اپنی اسی نیت کا اعتراف کرتا ہے کہ اگر موقع ملتا تو