اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 121 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 121

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 121 ان پاکیزہ ہستیوں کی عشق و محبت سے اپنی زندگی کا سامان کر رہے ہوتے ہیں۔ان پاکیزہ ہستیوں کے بارہ میں بلا ثبوت اس امر کے کہ انہوں نے کسی کے سامنے مسودہ میں کوئی تحریف کی ہو یا مسودہ بناتے ہوئے کسی سے مدد لی ہو یا کسی کو اس امر میں اپنا راز دان بنایا ہو یا کبھی موت جیسی تکلیف سامنے دیکھ کر خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہو، فوراً تہمت لگانے پر تیار ہو جانا اور ہزاروں گواہیوں کے مقابل پر عدم علم کو بنیاد بنا کر، بیہودہ اندازے لگاتے ہوئے حقیقت کو ر ڈ کر دینا کہاں کی علمیت اور تنقیدی تحقیق ہے۔اس رویہ کو تو خود دیانت دار محققین نا پسند کرتے ہیں اور اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔چنانچہ ممتاز مستشرق Jeffery Lang اور کیرم آرمسٹرانگ اس بارہ میں وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مستشرقین ایک طرف تو احادیث کو قابل اعتراض ٹھہراتے ہیں اور پھر خود ہی ان میں سے مستند روایات کو چھوڑ کر غیر مستند حصہ کو اپناتے ہیں اور اس پر اپنے غلط اندازوں کی بنیادرکھتے ہیں اور اسلام اور قرآن مجید پر اعتراض کرتے ہوئے خود اپنے ہی مسلّمہ قوانین کو جھٹلا دیتے ہیں۔انہیں خیالات کا اظہار ممتاز مستشرق Edward Said نے بھی کیا ہے: (Jeffrey Lang, Struggling to Surrender, Maryland: Amana Publications, 1994, p۔92) and (Edward Said, Orientalism, NY: Pantheon Books, 1978) اور پھر خاص طور پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارہ میں ایسا رویہ اختیار کرنا کہاں کی دیانتداری اور علمی دُنیا میں کس مقام کا حامل ہوگا کہ جن کی سیرت اور سواخ مستند ترین تاریخی ثبوتوں کے ساتھ نا قابل تردید دلائل سے بھری پڑی ہے کہ قرآن کریم آپ نے بلاتحریف و تبدل ہم تک پہنچایا ہے۔کسی بھی تاریخی طور پر مسلّمہ واقعہ کو اندازے لگا کر اگر رڈ کیا جانے لگا تو پھر کسی بھی چیز کی صداقت پر کھنے کی کوئی کسوٹی باقی نہ رہے گی۔اگر مستند تاریخی حقائق کو ان بے پر کے اندازوں سے آلودہ کیا جانے لگا تو تاریخ پر کون یقین کرے گا؟ لیکن افسوس صد افسوس کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ مکارم اخلاق کو نظر انداز کرتے ہوئے بار بار اس قسم کے قیافے اور بلا ثبوت اندازے سادہ لوح اور نا واقف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں اور مزید حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ قرآن کریم میں رد و بدل کرنے کا کوئی ثبوت نہیں اور رد و بدل نہ کرنے کے بیشمار ثبوت موجود ہیں۔پھر جس شخص کا دن رات کا کام تعلیم قرآن ہو اس سے تو بھول چوک بھی محال نظر آتی ہے اور دانستہ تبدیلی تو ممکن ہی نہیں رہتی کیوں کہ جب آیت ایک دفعہ لکھوا دی اور لوگوں نے حفظ کر لی اور اپنے پاس تحریری صورت میں محفوظ کر لی تو پھر کیوں کر ممکن ہے کہ آنحضور کوئی تبدیلی کریں اور صحابہ سوال نہ اُٹھائیں اور ہمعصر مخالفین بھی خاموشی اختیار کر لیں؟ ان تمام تر ثبوتوں کے باوجود بھی معاندین کارویہ نہیں بدلتا۔اسی قسم کے گندے اور خلاف واقعہ جملوں کے پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی