اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 114
الذكر المحفوظ 114 زیادہ مستند روایت میں بیان تفصیلات ابنِ وراق کے کسی کام کی نہیں اس لیے ان سے اعراض کرتے ہوئے اپنے اعتراض کی بنیاد نسبتا کمز ور روایت پر رکھتا ہے جیسا کہ مستشرقین کا عام وطیرہ ہے۔ابن وراق بخاری کی روایت اس لیے درج نہیں کرتا کیونکہ اس میں واضح طور پر درج ہے کہ یہ شخص جو بھی تھا مرتد ہونے کے بعد ایسی باتیں کیا کرتا تھا۔جبکہ ابن وراق نے جو نسبتا کم درجہ استناد کی حامل روایت چچنی ہے اور اُسے بھی مسخ کر کے پیش کیا ہے اس روایت کا راوی یہ بات کر رہا ہے نہ کہ مرتد ہونے والا شخص۔بخاری کی شرح فتح الباری میں اس شخص کے بارہ میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ اس کا نام معلوم نہیں لیکن وہ حضرت انسؓ کے قبیلہ بنی نجار میں سے تھا اور عیسائی تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے بعد مسلمان ہوا اور کچھ عرصہ بعد مرتد ہو کر پھر عیسائی ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مر گیا۔(فتح الباری كتاب المناقب باب علامات النبوة) جبکہ عبداللہ بن سعد ابی سرح قریش مکہ میں سے تھے اور آنحضور نے کی وفات کے بعد لمبا عرصہ زندہ رہے اور اسلام کی قابل قدرخدمات کی سعادت پائی۔بخاری کی روایت کے مطابق یہ شخص مرتد ہونے کے بعد کہتا پھرتا تھا کہ میں اپنی مرضی سے وحی قرآن کے الفاظ بدل دیا کرتا تھا۔اب واضح سی بات ہے کہ جب ایک شخص مرتد ہو گیا ہے تو پھر عین ممکن ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے بارہ میں مخالفت کے جوش میں جھوٹ بھی بولے۔عقلِ سلیم یہی گواہی دیتی ہے کہ وہ جھوٹ ہی بولا کرتا تھا۔کیونکہ صحابہ خانمونہ تو ہم دیکھ آئے ہیں کہ قرآن کریم کے بارہ میں کس قدر حساس تھا۔تلاوت کے وقت عربی زبان کے ادنی سے قبائلی فرق پر بھی صحابہ ایسے شخص کو گردن سے پکڑ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔حالانکہ یہ فرق در حقیقت کوئی اختلاف نہیں تھا بلکہ الہی اجازت سے آسانی پیدا کرنے کی خاطر اٹھایا گیا ایک قدم تھا۔پس اس کو تو صحابہ برداشت نہیں کرتے کجا یہ کہ ایک شخص آیات کے آواخر بدل دے اور صحابہ خاموش رہیں۔ایک قابل غور بات یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن سعد ابی سرح کے قتل کا حکم جاری کیا ہوا تھا۔اب اگر اس کے مرتد ہونے کی وجہ یہی تھی جو ابن وراق بیان کر رہا ہے تو پھر بنی نجار کے عیسائی کے بارہ میں بھی یہی حکم جاری کیا جانا چاہیے تھا۔خاص کر جب کہ تاریخ میں واضح ذکر ہے کہ اس نے الزام تراشی میں عبداللہ بن سعد ابی سرح سے بہت زیادہ مبالغہ آرائی کی تھی۔مگر آنحضور نے اس کے قتل کا حکم جاری نہ کیا بلکہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔بنی نجار کے عیسائی کے قتل کا حکم جاری نہ کرتا اورعبد اللہ بن ابی سرح کے قتل کا حکم دینا بتا تا ہے کہ دونوں کے مرتد ہونے کی وجہ مختلف تھی۔فتح مکہ کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کے بھی قتل کا حکم دیا ان سب کے پیچھے وجوہات سیاسی تھیں اور وہ سب لوگ جنگی جرائم کے مرتکب تھے نہ کہ اُن کا مرتد ہونا اُن کی سزائے موت کی وجہ تھا۔عبد اللہ بن سعد ابی سرح بھی انہی میں سے ایک تھا۔پس اس