اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 108
الذكر المحفوظ 108 حبشہ دوڑا دیا کہ مسلمانوں میں جا کر مشہور کر دو کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور انہوں نے محمد رسول الله (ﷺ) کے ساتھ مل کر سجدہ کیا ہے۔لیکن جب انہوں نے اندازہ کیا کہ اب حبشہ والے آنے ہی والے ہوں گے تو سوچا کہ اُن کے آنے پر ہم کیا جواب دیں گے کیونکہ آکر وہ دیکھیں گے کہ مکہ والے تو ابھی تک کافر ہیں اس لیے مشہور کر دیا کہ سجدہ کرنا ( نعوذ باللہ ) شرکیہ آیتوں کی وجہ سے تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ان آیتوں کو منسوخ کرنا جو در حقیقت منسوخ کرنا نہ تھا بلکہ یہ اعلان کرنا تھا کہ ایسی کوئی آیتیں میں نے نہیں پڑھیں کفار مکہ کے واپس کفر پر آجانے کی وجہ تھا۔اب یہ تدبیر بھی کامیاب ہو سکتی تھی جبکہ کوئی شرکیہ آیتیں اس مجلس میں کہلائی جاتیں جس میں آپ نے تلاوت کی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلکہ کسی خبیث کا فرنے اپنے سرداروں کے مشورہ سے پیچھے سے یہ فقرے پڑھ دیئے اور بوجہ اس کے کہ سینکڑوں آدمی موجود تھے اور مکہ کے سارے رؤساء جمع تھے۔شور میں پہچانا نہیں گیا کہ یہ آواز کس کی ہے اور کفار نے مشہور کر دیا کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ فقرے کہے ہیں اس لیے ہم نے سجدہ کر دیا تھا۔جو لوگ مجلس کے کناروں پر بیٹھے تھے انہوں نے بھی چونکہ یہ فقرے اس مفتنی شیطان کے منہ سے سنے تھے۔جس نے یہ فقرے آپ کی تلاوت کے وقت بآواز بلند کہہ دیے تھے۔اس لیے اُن لوگوں نے بھی یہ خیال کیا کہ شائد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہی یہ فقرے کہے ہوں۔پس اس کہانی کا حل تو یہ ہے کہ حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تلاوت کے وقت کفار نے پہلے سے سوچے سمجھے ہوئے منصوبہ کے مطابق کسی خبیث سے یہ فقرے بلند آواز سے کہلا دیے اور اُن کی سکیم کا ثبوت یہ ہے کہ مہاجرین حبشہ اسوقت سے پہلے مکہ پہنچ گئے جبکہ سورہ نجم والے واقعہ کو سُن کر وہ ملکہ آسکتے تھے۔بلکہ اگر اُسوقت ہوائی جہاز بھی ہوتے تو جتنے وقت میں وہ آسکتے تھے۔اُس سے بھی پہلے پہنچ گئے۔پس اُن کا وقت سے پہلے مکہ آ جانا بتاتا ہے کہ وقت سے پہلے اُن کو کہلا بھیجا گیا تھا کہ مکہ والے مسلمان ہو گئے ہیں اور عین اُن دنوں میں جبکہ وہ سکیم کے ماتحت آسکتے تھے مکہ والوں نے اوپر کے الفاظ کسی خبیث کے منہ سے بلند آواز سے کہلوا دیے۔پھر اگر اُن حدیثوں کو نظر انداز کر دیا جائے جو صراحتاً قرآن کریم کے خلاف ہیں تو یہ سورۃ ہی اس واقعہ کی تردید کرتی ہے کیونکہ ان آیتوں سے پہلے جن میں کہا گیا ہے کہ شیطان نے شرکیہ مضمون ملا دیا تھا یہ ذکر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خدا کو دیکھا ہے بلکہ یہ بھی کہ دودفعہ دیکھا ہے۔چنانچہ پہلے فرمایا وَ لَقَدْ رَاهُ نَزَلَةً أخرى یعنی اُس نے یقینا اپنے خدا کو ایک دفعہ اور دیکھا ہے اور پھر فرمایا لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبُری محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم