اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 102 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 102

الذكر المحفوظ 102 علم کتابت قرآن کے مطابق غلطی قرار دیا گیا اور اس طرح حفاظت قرآن کریم کے غیر معمولی ہونے کے بارہ میں ایک عظیم مثال قائم ہوئی۔آج مستند نسخہ ہائے قرآن کریم میں پائی جانے والی کتابت کی یہ معمولی اغلاط محافظت قرآن کا ایک لطیف اور خوبصورت ثبوت ہیں۔65ھ میں حجاج بن یوسف نے سکھی بن عمر اور نصر بن عاصم کو مقرر کیا جنہوں نے حروف کے باقاعدہ نقطے وضع کیے جو آج تک رائج ہیں۔اب صورت حال یہ تھی کہ حروف کے اپنے نقطے بھی تھے اور حرکات کی علامت کے طور پر نقطے پہلے لگائے جارہے تھے۔اس لیے ان دونوں قسم کے نقطوں میں فرق رکھنے کے لیے جو نقطے حرکات کی علامت کے طور پر تھے انہیں سرخ روشنائی سے لکھا جاتا اور حروف کے اپنے نقطے سیاہی سے لکھے جاتے۔(كتاب المصاحف الجزء الثالث:صفحه 90) سیارہ ڈائجسٹ ، قرآن نمبر ، حوالہ مذکور ) پھر بنو عباس کے زمانہ میں (غالباً مامون الرشید کے عہد میں ) مشہور عالم خلیل بن احمد (متوفی 175ھ) نے اہم خدمات سرانجام دیں۔اس نے ہمزہ اور شد کی علامت مقرر کرنے کے علاوہ بنیادی کا رنامہ یہ سرانجام دیا کہ حرکات (زیر، زبر، پیش ) کی وہ شکل ایجاد کی جو آج بھی رائج ہے۔جلال الدین سیوطی ؛ الاتقان فی علوم القرآن جلد 2 صفحہ 540، ناشر مطبعه مجازی قاهره) رسم الخط کی تاریخ میں عباسی وزیرا بن مطلہ (متوفی 328ھ ) نے بڑی اہم کامیابی حاصل کی۔اس نے خط نسخ ایجاد کیا۔یہ خط بہت سادہ ، واضح اور آسان ہے۔اس طرح چوتھی صدی ہجری کے اواخر اور پانچویں صدی کے آغاز میں خط کوفی متروک ہو گیا اور اس کی جگہ خط رح نے لے لی۔ساتویں صدی میں امیر علی تبریزی نے خطِ نسخ میں مزید اصلاح کر کے نیا خط، خط نستعلیق ایجاد کیا۔یہ دونوں خط اب بھی مقبول اور مستعمل ہیں۔سیارہ ڈائجسٹ، قرآن نمبر، حوالہ مذکور صفحہ 284) اب یہ تو واضح ہو گیا کہ قرآن کریم کا ایک خاص متن تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی نگرانی میں ہی محفوظ کر دیا تھا اور گزشتہ سطور میں ہم یہ بھی ثابت کر آئے ہیں کہ صحابہ کے دور میں قرآن کریم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی مگر پھر بھی بعض روایات کا سہارا لے کر شکوک پیدا کیے جاتے ہیں۔مثلاً ترتیب قرآن کے معاملہ میں کہا جاتا ہے کہ اصل ترتیب بدل دی گئی اور صحابہ نے قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب لگائی۔اسی طرح اختلاف مصاحف، اختلاف قراءت وغیرہ کے معاملات میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔آئندہ صفحات میں باری باری ان بڑے بڑے موضوعات کا محاکمہ کرتے ہیں جنہیں اکثر مخالفین اسلام کسی نہ کسی انداز میں اپنی جہالت کی وجہ سے یا عوام الناس کی عدم واقفیت کا فائدہ اُٹھانے کے لیے بار بار پیش کرتے ہیں۔