اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 101 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 101

عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 101 حضرت عثمان انہیں کو قرآن مجید پر اعراب لگانے کا حکم دے چکے تھے تا غیر عرب بھی قرآن کریم صحیح طور پر پڑھ سکیں اور بسہولت اس کی تعلیمات سے بہرمند ہو سکیں لیکن آپ بوجوہ فوری طور پر اس حکم کی تعمیل نہ کر سکے۔حضرت عثمان نے یہ حکم اختلاف قراءت کا مسئلہ حل کرنے کے بعد دیا تھا۔42ھ میں حضرت امیر معاویہؓ نے ابوالاسود کو بنی امیہ سے اختلافات رکھنے کی بناء پر معزول کر دیا۔فراغت میسر آنے پر انہوں نے خلفاء کے ارشاد کی تعمیل میں ایک رسالہ قواعد نحو کے بارہ میں تحریر کیا۔اسی طرح قرآن مجید پر اعراب بھی لگائے۔مگر یہ اعراب آج کل کے اعراب جیسے نہ تھے۔بلکہ نقطوں کی صورت میں تھے۔(عرض الانوار از قاضی عبدالصمد سیوہاروی مطبوعہ حمید برقی پریس دہلی۔سن اشاعت 1359 طبع اوّل صفحہ 73 74) امام ابوعمر وعثمان بن سعید الدانی نے لکھا ہے کہ ابوالاسود نے ایک آدمی سے کہا کہ قرآن کریم لے لو اور ایک رنگ تحریر کی روشنائی کے رنگ سے مختلف لیا اور اس سے کہا کہ اگر میں اپنا منہ کھولوں تو حرف کے اوپر ایک نقطہ (زبر) لگانا اور اگر منہ کو نیچے کی طرف مائل کروں تو نیچے ایک نقطہ (زیر) لگانا اور اگر اپنے منہ ملادوں تو ایک نقطہ حرف کے آگے (پیش) اور اگر ان حرکات کے ساتھ غنہ بھی ہو تو دو نقطے ( تنوین ) لگانا۔اس نے ایسا ہی کیا۔(بحوالہ عبد الصمد صارم الازھری : تاریخ القرآن، ایڈیشن 1985 ندیم یونس پرنٹرز لاہور، پبلشرز : مکتبہ معین الادب اردو بازار لا ہور صفحہ 123 ) 6699 اس وقت تک قرآن کریم خط کوفی میں لکھا جاتا تھا جس میں حروف پر نقطے نہیں ہوتے تھے مگر “ اور ” اور ” اور ” اور ”س“ اور ”ش“ کی طرز کتابت میں فرق تھا جس کو عرب بخوبی پہچانتے تھے اور پڑھنے والے بالکل صحیح پڑھتے تھے۔نیز کثرت تلاوت کے شوق اور حفاظ کی کثرت کی وجہ سے غلطی کا راہ پا جانا غیر ممکن تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان ، متینوں مبارک ہستیوں کے عہد میں قرآن مجید ایک ہی رسم الخط میں لکھا گیا اور حضرت عثمان کے عہد کے نسخے جو محفوظ ہیں وہ خط کوفی میں ہیں اور ان میں حروف کے نقطات نہیں ہیں۔( سیارہ ڈائجسٹ قرآن نمبر جلد سوم صفحہ 281 282 شمارہ: اپریل 1970 شمارہ نمبر 4) آج تمام امت مسلمہ میں ایک نظام کے تحت شائع ہونے والے نسخہ ہائے قرآن میں اس بات کا خاص التزام کیا جاتا ہے کہ کتابت قرآن کے لیے رسم الخط جو بھی اپنایا جائے قرآن کریم کے الفاظ کو انہی حروف کے ساتھ لکھا جائے جن حروف کے ساتھ حضرت عثمان کے دور میں صحابہ کے زیر نگرانی تحریر کیا گیا۔حضرت عثمان نے کتابت کے بعض معمولی فرقوں کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ عرب قوم اپنے بحسن سے ان کو درست کر لے گی۔چنانچہ قربان جائیں رسول امین کے اُن امانت دار پیروکاروں کے کہ جنہوں نے کتابت کی ان معمولی اغلاط کی اصلاح بھی اپنے لیے جائز نہ کبھی اور آج مستند نسخوں میں لفظ اُسی طرح لکھا جاتا ہے جس طرح حضرت عثمان کے وقت لکھا گیا۔ان اغلاط کی درستگی کرنا