اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 95
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 95 موجود تھے۔چنانچہ ایک آیت کی مستند تحریر جب صرف ایک صحابی کے پاس موجود پائی گئی تو صحابہ کو بہت عجیب لگا اور انہوں نے اس کا ذکر کیا۔اگر یہ تمام کارروائی اطمینان عام کے لیے تھی اور قو می گواہی اکٹھی کی جارہی تھی تو ضرور تھا کہ ادنی سی بے اطمینانی کی حالت میں بھی صحابہ اعتراض کرتے۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس عظیم الشان خدمت کے پورا ہونے کے فوراً بعد جب کہ مرکزی نسخہ قرآن تیار ہو چکا تھا، کسی صحابی کا اس کی نقل کرنا مذکور نہیں ہے۔اگر قرآن کریم کے نسخہ جات موجود نہ ہوتے تو صحابہ کا قرآن کریم سے عشق تو ایسا تھا کہ لاز م وہ نقول کروانے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ نسخہ تحریرات کی کمی دور کرنے کے لیے نہیں بلکہ صحابہ کی گواہی اور اطمینان عام کے لیے مرتب کیا گیا تھا ورنہ لوگ اس کی نقول کروانے کو دوڑے پھرتے۔حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں یعنی قریباً دس پندرہ سال بعد تک ، جب حضرت عثمان نے اس کی نقلیں کروائیں، کسی نے عام استعمال نہیں کیا۔یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ قرآن کریم کے بکثرت نسخے موجود ہوں اور تعلیم عام ہو۔خلاصہ یہ کہ یہ قدم حفاظت قرآن پر اجماع امت کے لیے، اور حفاظت قرآن پر قوم کی گواہی اور اطمینان عام کے لیے اُٹھایا گیا تھا۔حضرت ابوبکر کے اس اقدام پر غور کرنے والے بعض مستشرقین بھی اس حقیقت تک پہنچے ہیں۔چنانچہ Dr۔Maurice Bucaille لکھتے ہیں They had the advantage of being checked by people who already knew the text by heart, for they had learned it at the time of the Revelation itself and had subsequently recited it constantly۔Since then, we know that the text has been scrupulously preserved, It does not give rise to any problems of authenticity۔(The bible The Quran and Science (translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor) Under Heading Conclusions Pg 250-251) انہیں (یعنی جن لوگوں کو حضرت ابو بکر نے جمع قرآن کا حکم دیا تھا ) یہ زائد فائدہ بھی حاصل تھا کہ وہ (متن) اُن لوگوں سے چیک کروالیا جاتا تھا جنہوں نے وحی کے نزول کے وقت ہی اسے حفظ کر لیا تھا اور بار بار اس کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔اس وقت سے، ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کا متن بلاشبہ محفوظ ہے اور اس کے استناد پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔پھر حضرت عثمان کے عہد تک موافقین اور مخالفین کے پاس یہ مہلت تھی کہ اگر کسی کو کوئی بھی اختلاف ہو تو ضرور اس کا ذکر کریں مگر سالوں پر سال گزرتے چلے گئے لیکن نہ امت مسلمہ کی طرف سے اور نہ ہی مخالفین کی طرف سے کوئی آواز اُٹھائی گئی۔آخر جب ایسے حالات پیش آئے کہ مناسب محسوس ہوا کہ اس مرکزی متفقہ صحیفہ پر ساری قوم کو جمع کر دیا جائے تو صحابہ کے مشورہ اور رائے سے حضرت عثمان کی نگرانی میں متفرق طور پر صحابہ کے پاس