اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 87
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 87 اُٹھاتے ہیں اور بہت سے مسلمان علماء اِن سوالات سے نظریں چراتے ہیں اور بعض تو جواب نہ ملنے کی وجہ سے حضرت ابوبکر کے اس عظیم الشان کارنامہ کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں جمع قرآن کا طریق مستند روایات کے مطابق حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ کے مشورہ پر جمع قرآن کے لیے رضامند ہو گئے اور پھر اس بنا پر کہ حضرت زید بن ثابت ایک بے داغ کردار کے حامل ، جوان ، ذہین اور پڑھے لکھے صحابی تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اُن معتبر صحابہ میں سے تھے جنہیں حضرت رسول خدا نے وحی الہی لکھنے کی ذمہ داری سونپی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نگرانی میں قرآن کریم تحریر فرماتے تھے۔اسی سعادت کی وجہ سے حضرت ابوبکر نے بھی آپ ہی کے ذمہ یہ کام لگایا کہ آپ قرآن کریم کو جمع کریں۔مکمل انشراح صدر کے بعد حضرت زید نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن کریم تحریر اور حفاظ کی گواہیوں کے ساتھ جمع کیا۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن) مندرجہ بالا وضاحت کے بعد اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ وہ کون سا انوکھا اور بھاری کام تھا جس پر حضرت ابو بکر اور حضرت زید اتنی سوچ و بچار کے بعد راضی ہوئے تھے۔بعد کے حالات کے تفصیلی مطالعہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ تحریری صورت میں موجود ہونے کے بعد جمع قرآن کس طرز پر ہوا اور اس میں کیا حکمت پوشیدہ تھی ؟ آئیے اُن احادیث کا دوبارہ جائزہ لیتے ہیں جن سے حضرت زید کے طرز عمل کا پتہ ملتا ہے۔حضرت زید فرماتے ہیں: تب میں نے مختلف جگہوں اور چیزوں سے قرآن کریم کو تلاش کیا جو کھجور کی ٹہنی کی ڈنٹھل اور پتھر کی باریک سلوں اور لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھا۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن) اس طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ سیوطی فرماتے ہیں : ان ابا بكر قال لعمر و لزيد اقعدا على باب المسجد فمن جاء كما بشاهدين على شيء من كتاب الله فاكتباه (الاتقان في علوم القرآن جزء اول النوع الثامن عشر في جمعه و ترتیبه صفحه 58) جب جمع قرآن کا فیصلہ ہو گیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر اور حضرت زید (رضی اللہ عنہما) کو حکم دیا کہ مسجد کے دروازہ پر بیٹھ جائیں اور جو کتاب اللہ کا کوئی حصہ دو گواہوں کے ساتھ لائے وہ حصہ لکھ لیں۔قـدم عـمـر فـقـال مـن كـان تلقى من رسول الله لا شيئا من القرآن فليأت