اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 86
الذكر المحفوظ 86 مشکل لگا؟ نیز کیا قرآن کریم کی تحریرات کو جلد کروانا پہاڑ کو دوسری جگہ منتقل جتنا مشکل تھا؟ پس مجلد شکل میں پیش کرنا تھا مگر اس طرح کہ یہ کام پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے سے زیادہ مشکل ہو گیا تھا۔اگر ایسا نہیں تھا تو حضرت زید کو تو کہنا چاہیے تھا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں میرے پاس اور دوسرے صحابہ کے پاس پہلے سے ہی قرآن کریم تحریری طور پر محفوظ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔انہی تحریرات کو جلد کر لیتے ہیں یا اُن کی نقل تیار کر کے جلد کر لیتے ہیں۔پھر آئندہ جو لائحہ عمل بنایا گیا اور جو کام کیا گیا وہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مقصد صرف ایک مجلد نسخہ کی تیاری نہیں تھا۔المختصر حضرت عمرؓ کی طرف سے ایک ایسی تجویز پیش کی گئی تھی جو اپنی ذات میں بالکل نئی تھی اور یہ کام پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور وہ کام تھا بھی بہت عظیم الشان اور بقول حضرت زید پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے سے زیادہ مشکل تھا تحریر کروانا اتنا مشکل کیونکر ہوگیا؟ پھر حضرت زید تو نسخہ کی تیاری کو مشکل قرار دے رہے ہیں تحریر کر وانے یا جلد کروانے کو نہیں چنانچہ نسخہ تیار کرنے کے بعد جلد کرنے کا ذکر بھی نہیں کرتے۔پس نسخہ تحریر کروانا یا تحریرات جلد کروانا بہر حال پہاڑ ڈھونے جتنا مشکل نہیں ہوسکتا۔اور اس امر کی کہ تحریرات میں کمی کا اندیشہ نہیں تھا ایک اور بھی دلیل ہے کہ جب حضرت عمر کی تجویز کے مطابق نسخہ تیار ہو گیا تو تاریخ میں ذکر نہیں ملتا کہ صحابہ اس نسخہ کی نقلیں کروانے ٹوٹ پڑے ہوں۔پس تحریرات کافی وشافی موجود تھیں۔مختصر یہ کہ یہ تو واضح ہے کہ مسئلہ حفاظت قرآن کا ہی در پیش تھا اور کوئی نہیں تھا اور یہ بھی واضح ہے کہ حفاظ کی تعداد کم ہونے یا تحریرات کے کم ہونے کا اندیشہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ حضرت عمرؓ کے نزدیک اس مسئلہ کا حل نہ تو حفاظ کی تیاری میں تھا اور نہ ہی آپ اس وقت قرآن کریم کی کثرت سے تحریری اشاعت کی تجویز دے رہے تھے۔بلکہ جو مسئلہ تھا وہ ایک مخصوص نسخے کی تیاری کا تھا جو کہ اب تک تیار نہیں ہو ا تھا۔اور اُس نسخہ کی تیاری پہاڑ جیسا مشکل کام تھا نہ کہ اس کوتحریر کرنا یا اس کو جلد کرنا۔ایک اور بات واضح ہے کہ اس تجویز کا تعلق صحابہ کی شہادت سے تھا۔صرف صحابہ کی موجودگی میں ہی یہ کام ہوسکتا تھا صحابہ کے بعد نہیں نیز تھا بھی بہت اہم اور مشکل۔ذیل کی سطور میں ہم ان سوالات کے جوابات تلاش کریں گے کہ اگر صرف کتابی شکل میں ہی پیش کرنا مقصود تھا تو پھر حفاظ کی شہادت سے قرآن کے ایک بڑے حصہ کے ضائع ہونے کے کیا معنی ہوں گے؟ حضرت ابوبکر اور پھر حضرت زیڈ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ ”جو کام رسول کریم نے نہیں کیا وہ ہم کیسے کریں؟ نیز حضرت زیڈ کے اس قول سے کیا مراد ہے کہ یہ کام مجھے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے سے زیادہ دشوار لگا؟ یہ سوالات اسی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صرف کتابی شکل میں پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ کچھ گہرا کام کیا گیا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں کرنا ممکن نہیں تھا۔لیکن اس نسخہ میں ایسی خاص بات کیا تھی ؟ ان سوالات پر نظر ڈالنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ عصر حاضر میں مستشرقین بہت کثرت سے یہ سوالات