اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 84
الذكر المحفوظ 84 کوئی ڈر نہیں ہوسکتا۔یہ تو سوال دیگر جواب دیگر والی بات ہے۔اگر ڈر ہوتا تو تحریرات کی بجائے حفاظ کی قلت کا ڈر ہوتا۔یہ تجویز دینی چاہیے تھی کہ قرآن کریم حفظ کرنے پر توجہ دی جائے اور کوئی مدرسۃ الحفظ قائم کیا جائے۔کیونکہ تحریرات ضائع ہونے کا مسئلہ نہیں تھا حفاظ کی کثرت سے شہادت کا مسئلہ تھا اور قرآن کریم کی تحریرات کے ضائع ہونے کا مسئلہ تو کبھی امت محمدیہ میں پڑا ہی نہیں۔سوچنے والی بات ہے کہ 700 قراء شہید ہوئے اور فکر یہ پڑ گئی کہ قرآن ضائع نہ ہو جائے اور پھر کام کیا کیا ؟ موجود نسخوں کو محفوظ کرنے کی بجائے اُن میں ایک اور نسخہ کا اضافہ کر کے صحابہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کہ اب قرآن محفوظ ہے۔ذرا غور کریں کہ یہ بات تو انتہائی مضحکہ خیز ہے۔یہ ڈر محض ایک مجلد نسخہ کے اضافہ سے کیسے دُور ہو سکتا ہے۔جہاں بیشمار تحریرات ضائع ہوسکتی ہیں کیا وہاں یہ ایک نسخہ ضائع نہیں ہوسکتا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس واضح ہدایت کا ذکر گزر چکا ہے کہ آپ نے جنگ میں قرآنی تحریرات ساتھ لے جانے کی ممانعت فرمائی تھی۔اگر تحریرات کے ضائع ہونے کا ڈر تھا تو چاہیے تھا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس ہدایت کی اشاعت کی جاتی اور یہ حکم جاری کر دیا جاتا کہ جنگ میں تحریرات قرآنیہ ساتھ نہ رکھی جائیں نیز کوئی بھی نیا نسخہ تحریر کرنے سے پہلے تو یہ چاہیے تھا کہ اُن پرانی تحریرات کو محفوظ کرنے کے بارہ میں سوچتے جن کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا اور اُن کو جلد کرواتے۔انہی سوالات کے جواب نہ پا کر آج کل کے بعض مسلمان علماء ان مستند روایات کا ہی انکار کر دیتے ہیں۔مختصر یہ کہ حضرت عمرؓ کے ذہن میں لازماً کوئی ایسی بات تھی جو تحریری صورت میں قرآن کو جمع کرنے کے علاوہ تھی اور وہ بات حفظ قرآن کی طرف توجہ دلانا بھی نہیں تھی کیونکہ آپ نے کوئی مدرستہ الحفظ کھولنے کی تجویز نہیں دی۔پھر حفظ قرآن کا کام بھی امت میں جاری تھا۔اگر چہ کافی تعداد میں حفاظ صحابہ شہید ہوئے تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ امت سے حافظ قرآن ہی ختم ہوجائیں گے چنانچہ ہم صحیح بخاری کی اسی حدیث کی طرف لوٹتے ہیں جس میں جمع قرآن کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی تجویز کا ذکر ہے۔اس حدیث میں اندورنی شہادت موجود ہے کہ حفاظت قرآن کے ضمن میں تحریری صورت میں جمع کرنے کے علاوہ ایک اور بات حضرت عمر کے ذہن میں تھی جواب تک سرانجام نہیں دی گئی تھی۔چنانچہ جب حضرت عمرؓ نے یہ تجویز حضرت ابو بکر کے سامنے پیش کی تو حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کو یہ جواب دیا کہ: میں نے (یعنی حضرت ابوبکر۔ناقل ) نے عمر سے کہا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ کام آپ کس طرح کر سکتے ہیں ؟ عمر نے کہا کہ خدا کی قسم اس کام میں بھلائی ہی ہے اور پھر مجھ سے مسلسل اصرار کرتے چلے گئے حتی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس بارہ میں انشراح صدر عطا فر مایا اور میری بھی وہی رائے ہوگئی جو عمر کی تھی۔اب دیکھا جائے تو تحریری شکل میں تو قرآن کریم کے بارہ میں بخاری اور صحاح ستہ کی واضح اور بہت کثرت