اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 74
الذكر المحفوظ 74 احادیث عام طور پر تحریر نہ کی جاتی تھیں اور نہ ہی ان کے حفظ کا باقاعدہ انتظام تھا۔صحابہ عشق رسول میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اقوال اور احادیث آپس میں سنتے سناتے۔اس طرح آپ کے اقوال سینہ بسینہ آگے منتقل ہوتے رہتے۔قرآن کریم کے بارہ میں ہم دیکھ آئے ہیں کہ نزول کے ساتھ ساتھ تحریری صورت میں محفوظ کیا جاتا اور اس کے حفظ کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا جس کے نگرانِ اعلیٰ خدا تعالیٰ کے بعد خود رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تھے اور پھر صحابہ کا کلام الہی سے عشق اور محبت اور اسکی غیرت بہت بڑے نگران تھے۔ان حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب اس واقعہ پر نظر ڈالیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے شاہ مصر مقوقس کے نام ایک تبلیغی خط لکھا تھا۔اُس خط کے الفاظ مسلمانوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سُن کر یا در کھے تھے جو کہ بعد میں تاریخ میں محفوظ کر لیے گئے۔اب قریباً ایک سوسال قبل یہ خط اپنی اصل صورت میں دریافت ہو چکا ہے۔یہ 1858ء میں بعض فرانسیسی سیاحوں کو مصر کی ایک خانقاہ سے ملا اور اس وقت قسطنطنیہ میں موجود ہے اور اس کا فوٹو بھی شائع ہو چکا ہے ( ریویو آف ریجنز قادیان اگست 1906 ء صفحه 364 ) اس خط کا دریافت کرنے والا مسیو استین برفیلمی تھا اور غالبا سب سے پہلے اس کا فوٹو مصر کے مشہور جریدہ الہلال نومبر 1904ء میں شائع ہوا تھا اور پھر پروفیسر مارگولیتھ نے بھی اپنی کتاب محمد آئینڈ دی رائز آف اسلام میں اسے شائع کیا۔اسی طرح وہ مصر کی ایک جدید تصنیف تاریخ الاسلام السیاسی مصنفہ الدكتور حسن بن ابراہیم استاذ التاريخ الاسلامی جامعہ مصریہ میں بھی چھپ چکا ہے اور بہت سے غیر مسلم محققین نے اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ وہی اصل خط ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مقوقس شاہ مصر کو لکھا تھا۔(حضرت مرزا بشیر احمد صاحب: سیرۃ خاتم النبین حصہ سوم صفحہ 822) حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ دریافت شدہ اصل خط اور حافظہ کے دوش پر سو سال سے زائد عرصہ کا سفر طے کر کے کتب حدیث میں جگہ پانے والا خط حیرت انگیز طور پر لفظ لفظ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ ایک خط کا زبانی روایات کی صورت میں ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہونا اور سو دوسو سال کے بعد ان روایات کا تحریری شکل میں آنا اور پھر اس خط کا اصل حالت میں دریافت ہو جانا اور تاریخ میں حافظہ کے ذریعے محفوظ کیے ہوئے خط اور دریافت ہونے والے اصل خط کی تحریر میں الفاظ تک میں مطابقت ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ عربوں کا حافظہ کتنا مثالی اور غیر معمولی تھا اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس درجہ امانت دار تھی وہ قوم کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیغام کو جو اُن کے نام بھی نہیں تھا اس احتیاط سے حفظ کرتی تھی۔پھر کیسے ممکن ہے کہ اس پیغام کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نہیں بلکہ خدا کا ہو، اور پھر ہو بھی بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے، نیز سب سے پہلے مخاطب بھی صحابہؓ بنے ہوں اور پھر صحابہ اس کلام کی حفاظت کرنا اور اسے بحفاظت بنی نوع کو منتقل کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی حفاظت کی تاکید