اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 42 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 42

الذكر المحفوظ 42 كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآن كَالْمُسِرِّ بالصَّدَقَةِ - (سنن ابی داود كتاب التطوع باب فى رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل) عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اونچی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے لوگوں کے سامنے خیرات کرنے والا اور 66 آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا۔“ عَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا أَهْلَ الْقُرْآن لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ مِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَافْشُوهُ وَتَغَنُّوهُ وَتَدَبَّرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (رواه البيهقي في شعب الايمان بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن) حضرت عُبَيْدَه مُلکی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل قرآن! قرآن پڑھے بغیر نہ سویا کرو اور اس کی تلاوت رات کو اور دن کے وقت اس انداز میں کرو جیسے اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو خوش الحانی سے پڑھا کرو اور اس کے مضامین پر غور کیا کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہئے۔بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص۔قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور خود اس میں ایک اثر ہے۔عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔وہی تقریر ثر ولیدہ زبانی سے کی جائے تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔جس شئے میں خدا تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔ایک دوسری جگہ فرمایا : ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 524) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔جب یہ آیت و جئنابك على هَؤُلَاءِ شهيدًا (النساء:42) آپ روئے اور فرمایا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہوگا۔ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 161,162 )