اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 27
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 27 مذموم کوشش ابن وراق کر رہا ہے، اس کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے؟ جھوٹی بنیاد اور غلط نتیجہ بہر حال اس جھوٹ کے ثابت ہونے کے بعد بھی ہم ابن وراق کی اس خواہش کو کہ قرآن کریم کی تاریخ کو دوبارہ کھنگالنے کی ضرورت ہے، پورا کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔حفظ قرآن کریم حفاظت قرآن کے باب میں ایک بے نظیر اور اہم طریقہ حفظ قرآن کریم ہے جو امت مسلمہ میں پہلی آیت کے نزول سے لے کر آج تک رائج ہے۔یہ طریقہ بظاہر تو انسانی ذرائع میں سے ایک معلوم ہوتا ہے مگر ادنی سے تدبر سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ حفظ قرآن بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ کو حفاظت قرآن کے باب میں ایک بے نظیر الہی عطا ہے۔اگر یہ انسانی طاقت میں ہوتا تو دوسرے مذاہب اپنی اپنی کتب کو محفوظ رکھنے کے لیے ضرور اس طریقہ کو استعمال کرتے۔مگر صرف قرآن کریم کو یہ خصوصیت حاصل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کتاب کی حفاظت کے لیے یہ خدا تعالیٰ نے اپنی جناب سے یہ خاص انتظام فرمایا تھا۔اگر ایسا انتظام انسانی طاقت میں ہوتا تو لازماً اور بھی مثالیں ملتیں۔حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمد صاحب خلیفہ اسی الثانی الصلح الموعودرضی اللہ عہ فرماتے ہیں: یہ بھی یادر ہے کہ ایسے آدمیوں کا میسر آجانا جو اسے حفظ کرتے اور نمازوں میں پڑھتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طاقت میں نہ تھا۔ان کا مہیا کرنا آپ کے اختیار سے باہر تھا۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر:10) که ایسے لوگ ہم پیدا کرتے رہیں گے جو ا سے حفظ کریں گے۔آج اس اعلان پر تیرہ سوسال ہو چکے ہیں اور قرآن مجید کے کروڑوں حافظ گزر چکے ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد چہارم زیر تفسیر المجر آیت 10 صفحہ 15) پس قرآن کریم کی کامل حفاظت کے لیے حفظ قرآن کا بے مثل وسیلہ خالصۂ الہی عطا ہے۔ابتدا سے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم وحی الہی تحریر کروانے کے بعد سنتے اور پھر تسلی کرنے کے بعد آپ صحابہ کو حفظ کراتے اور پھر اسکی اشاعت ہوئی۔آپ نے چند صحابہ کی ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی جن کا کام تھا کہ وہ پہلے خود آنحضور سے قرآن کریم حفظ کر لیں اور پھر دیگر صحابہ کو حفظ کروائیں۔چنانچہ روایات میں حضرت عبد اللہ بن مسعود حضرت سالم حضرت ابی بن کعب اور حضرت معاذ بن جنبل رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے کبار صحابہ کے نام ملتے ہیں۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ) یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ بہت سے جانثار صحابہ فوری طور پر قرآن کریم کی تازہ بتازہ نازل ہونے والی وحی کو بلا توقف حفظ کرلیا کرتے تھے۔حضرت رسول کریم صلی