اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 369
قرآن کریم کی معنوی محافظت 369 اللہ کے دخل سے بکلی پاک ہے اور وہ الہام ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ امت کو بشارت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِئَةٍ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا (سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما جاء في قرن المائة) اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایسے لوگ مبعوث کرتا رہے گا جو اس صدی کی ضروریات کے مطابق تجدید دین کریں گے۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: صرف رسمی اور ظاہری طور پر قرآن شریف کے تراجم پھیلانا یا فقط کتب دینیہ اور احادیث نبویہ کو اردو یا فارسی میں ترجمہ کر کے رواج دینا یا بدعات سے بھرے ہوئے خشک طریقے جیسے زمانہ حال کے اکثر مشائخ کا دستور ہورہا ہے سکھلانا یہ امور ایسے نہیں ہیں جن کو کامل اور واقعی طور پر تجدید دین کہا جائے بلکہ مؤخر الذکر تو شیطانی راہوں کی تجدید ہے اور دین کا ر ہنزن۔قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کو دنیا میں پھیلانا بے شک عمدہ طریق ہے مگر رسمی طور پر اور تکلف اور فکر اور خوض سے یہ کام کرنا اور اپنا نفس واقعی طور پر حدیث اور قرآن کا مورد نہ ہونا ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک با علم آدمی کر سکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں ان کو مجددیت سے کچھ علاقہ نہیں۔یہ تمام امور خدا تعالیٰ کے نزدیک فقط استخوان فروشی ہے اس سے بڑھ کر نہیں۔اللہ جلشانہ فرماتا ہے لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ الله أَن تَقُولُوا مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف: 443) اور فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّ كُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة:106)۔اندھا اندھے کو کیا راہ دکھا ویگا اور مجزوم دوسروں کے بدنوں کو کیا صاف کریگا۔تجدید دین وہ پاک کیفیت ہے کہ اول عاشقانہ جوش کے ساتھ اس پاک دل پر نازل ہوتی ہے کہ جو مکالمہ الہی کے درجہ تک پہنچ گیا ہو پھر دوسروں میں جلد یا دیر سے اسکی سرایت ہوتی ہے۔جولوگ خدا تعالے کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل پوشیدن اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجر و قال سے اور خدا تعالیٰ کے الہام کی تجلی اُنکے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور انکی گفتار اور کردار میں دنیا پرستی کی ملونی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفا کئے گئے اور بتمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔(فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 6-7 حاشیہ )