اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 324
الذكر المحفوظ 324 کے وہ نسخے جو کہ حضرت عثمان نے حضرت ابوبکر کے نسخے سے نقل کروائے تھے ان سب پر حضرت علیؓ نے خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا۔نہج البلاغہ میں درج آپ کے 127 نمبر خطبہ میں تو آپ یہاں تک فرماتے ہیں کہ عثمان نے جو کام کیا ہے وہ اگر نہ کرتے تو یہی خدمت میں سرانجام دیتا۔آپ اپنے دور خلافت میں اسی قرآن کریم کو استعمال کرتے رہے۔پس جب اس درجہ استناد کے ساتھ قرآن کریم محفوظ کیا گیا اور حضرت علی بھی اسے ہی استعمال کرتے رہے تو خارجیوں کے ہاتھ ایسی کون سی دلیل لگ گئی جو انہوں نے اعتراض کر دیا؟ خارجیوں کے سردار (بقول ابن وراق نعوذ بالله من هذه الخرافات) تو قرآن کریم کے استناد کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ رسول کریم سے لے کر اب تک محفوظ ہے اور آپ کو سورۃ یوسف پر بھی کوئی اعتراض نہیں تو پھر خارجیوں کو کیا اعتراض ہے؟ پھر حیرت کی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور آپ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر کے جمع قرآن کے دور میں اور پھر حضرت عثمان کے عہد خلافت میں تو سورۃ یوسف پر نہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی اعتراض ہوتا ہے اورنہ مخالفوں کی طرف سے لیکن حضرت علی کے دور میں جبکہ مسلمانوں کے خلاف سیاسی محاذ آرائیاں اپنے عروج پر تھیں یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے۔پس خارجیوں نے سورت یوسف کے کلامِ الہی نہ ہونے کی کیا دلیل دی ؟ کیا وہ خود ملہم من اللہ ہونے کے دعویدار تھے اور خدا تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا کہ یہ سورت قرآن کریم کا حصہ نہیں بلکہ بعد میں ڈالی گئی ہے یا انہوں نے اس سورت کے الحاقی ہونے کے بارہ میں کوئی ثبوت پیش کیا تھا؟ ابن وراق کا یہ کہنا بھی ایک خلاف حقیقت بات ہے کہ خارجی حضرت علیؓ کے ابتدائی دور کے پیروکار تھے۔خارجیوں پر بحث کا موقع نہیں مختصر بیان کرنا ہی مناسب ہے کہ اگر اس دور کے حالات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ خارجی وہ سیاسی لوگ تھے جن کے خاص عزائم تھے جیسے خلافتِ راشدہ کو اور اسلامی مرکزیت کو ختم کرنا اور اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور وہ ان عزائم کو پورا کرنے کے لیے مذہب کا غلط طور پر استعمال کرتے تھے۔ان کا سرغنہ عبداللہ بن سبا ایک بہت ذہین اور با صلاحیت یہودی تھا اور اس نے جرائم پیشہ لوگ اکٹھے کر لیے تھے اور کچھ سادہ لوح مسلمانوں کو بھی دھوکہ اور فریب کی راہ سے ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔یہ مسلمان زیادہ تر عدم تربیت یافتہ نو مبایعین تھے جو مرکز سے دُور رہتے تھے اور مرکز سے رابطہ نہ رکھنے یا مذہب میں زیادہ دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ تھے لیکن چونکہ تھے مسلمان اس لیے عبداللہ بن سبا اُن کو حضرت علی کے حوالہ سے دھوکہ دیتا تھا کہ حضرت علی خط لکھ لکھ کر عبد اللہ بن سبا کی رہنمائی کر رہے ہیں اور حضرت عثمان کے ظلم و ستم سے پریشان ہیں۔ساتھ ہی اس ڈر سے کہ حضرت علی کو علم ہو گیا تو اس کی خیر نہیں ، وہ عیارا انسان یہ بھی کہتا کہ ان خطوط کے مضمون کو راز ہی رکھو ورنہ (حضرت) عثمان (رضی اللہ عنہ ) کو خبر ہوگئی تو اُن کے ہاتھوں حضرت علی اور زیادہ پریشان ہوں گے۔اس گروہ کے باقی کرتا دھرتا اور لیڈر صرف نام کے مسلمان اور درحقیقت