اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 265 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 265

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 265 کے سامنے تھے۔پس آپ کے فیصلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات مدنظر رکھنی ضروری ہے کہ کون سے فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق ہیں اور کون سے ایک حاکم ہونے کی حیثیت میں ہیں اور کون سے فیصلے ایک عالمی قاضی ہونے کی حیثیت سے دیے جارہے ہیں جو کہ متفرق قوانین کے تابع ہیں اور اسلامی حدود کے دائرہ میں نہیں آتے۔پھر یہ بات بھی مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بعض دفعہ فیصلہ کرتے ہوئے بطور حاکم اصلاح احوال مدنظر رکھتے تھے اور ایسا فیصلہ دائمی نوعیت کا نہیں ہوتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی دور میں رجم کی سزا دینے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رُو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جو شخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اُس پر ملعون کا لفظ بولا گیا ہو۔وہ ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔مَلْعُونِينَ۔أَيْنَمَا تُقِفُوا أُخِذُوْاوَ قُتِلُوا تَقْتِيلاً [ الاحزاب :62] یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں لعنتی ہیں۔یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے رڈ کئے گئے۔اس لئے یہ اس لائق ہیں کہ جہاں انکو پاؤو قتل کر دو۔پس اس آیت میں اس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ لعنتی ہمیشہ کیلئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی پیدائش ہی ایسی ہوتی ہے جس پر جھوٹ اور بدکاری کا جوش غالب رہتا ہے۔اور اسی بنا پر قتل کرنے کا حکم ہوا۔کیونکہ جو قابل علاج نہیں اور مرض متعدی رکھتا ہے اس کا مرنا بہتر ہے۔اور یہی تو ریت میں لکھا ہے کہ 66 لعنتی ہلاک ہو گا۔“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 237 ،238) رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسوہ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے کبھی بھی رجم کو اسلامی شرعی حد نہ قرار دیا بلکہ رجم کے بارہ میں آپ کا اسوہ اور رویہ شرعی حدود کے بارہ میں آپ کے رویہ سے بالکل مختلف تھا۔رجم کی سزا کے بارہ میں یہ روایت ملتی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص ماعز بن مالک کو آپ نے رجم کی سزا دی۔جب اسے رجم کیا جار ہا تھا تو وہ پتھر لگنے پر بھاگ کھڑا ہوا۔صحابہ نے تعاقب کر کے اسے پکڑ لیا اور سنگسار کر دیا۔جب اس واقعہ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوعلم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ بھاگ رہا تھا تو بھاگنے دیتے۔ہوسکتا ہے کہ وہ تو بہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرمالیتا (بخاری کتاب الحدود باب رجم ماعز بن مالك ) - گویا رجوع یا تو بہ کرنے پر آپ اس سزا میں تخفیف یا اسے بالکل ہی کالعدم کرنے کے حق میں تھے۔لیکن اسلامی حدود کے حوالہ سے آپ کے طرز عمل کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے بعید تھا کہ قرآن کریم میں ایک واضح حکم موجود ہو اور آپ اس کی پیروی نہ کریں۔شرعی حدود کے بارہ میں تو آپ کا فتویٰ