اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 238 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 238

الذكر المحفوظ 238 اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو دستور و اسلوب بیان اپنایا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے اور قرآن کے بیان فرمودہ مضامین کی ترتیب کے بارہ میں سورۃ ھود میں فرماتا ہے: ترجیب مضامین قرآن الراكِتُبْ أَحْكِمَتْ ايتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ ۖ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللهُ إِنَّنِي لَكُمْ مِّنْهُ نَزِيرٌ وَ بَشِيرٌ - و أن اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعُكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلِ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرِ۔(آیات 2 تا4) ترجمہ: ( یہ ) ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات مستحکم بنائی گئی ہیں (اور ) پھر صاحب حکمت (اور ) ہمیشہ خبر رکھنے والے کی طرف سے اچھی طرح کھول دی گئی ہیں۔( متنبہ کر رہی ہیں ) کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔میں یقینا تمہارے لیے اس کی طرف سے ایک نذیر اور ایک بشیر ہوں۔نیز یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکو تو تمہیں وہ ایک مقررہ مدت تک بہترین سامانِ معیشت عطا کرے گا اور وہ ہر صاحب فضیلت کو اس کے شایان شان فضل عطا کرے گا اور اگر تم پھر جاؤ تو یقینا میں تمہارے بارہ میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ان آیات میں یہ مضمون ہے کہ خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے قرآن کریم کی محکم آیات کے مضامین کی تفصیل یہ ہے کہ مقصد اعلیٰ عبادت الہی کا قیام ہے چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو اسوہ حسنہ بناتے ہوئے ایسی کتاب کے ساتھ بھیجا ہے جس میں تمام ضروری مضامین انذار اور بشارت کے پیرایہ میں بیان کیے گئے ہیں تا کہ طالب استغفار اور تو بہ کے پانی سے اپنے تقویٰ کی آبیاری کرے اور اس کے نتیجہ میں الہی انعامات کا وارث بنے۔مگر یہ سب ہر طالب کی ذاتی استعداد اور فضیلت کے مطابق ہوگا۔جو اپنی استعدادوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے جتنا کمال حاصل کر لے گا اسی قدر وہ خدا کے فضلوں کا وارث ہوگا۔اور شرارت کرتے ہوئے جو پھرے گا تو وہ خدا کے غضب کا مورد ہو گا۔پس ان آیات کے حوالہ سے قرآن کریم کے مضامین کی ایک ترتیب کچھ یوں معلوم ہوتی ہے کہ: اول: اس کتاب اور تعلیم کا مقصود حصول تقومی کے لیے خدائے واحد کی عبادت کا قیام ہے۔دوم: اس مقصد کے حصول کے لیے آنحضرت ﷺ کو تنبیہ کرنے والا اور بشارت دینے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔سوم : آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسوہ حسنہ اور کامل نمونہ سے اسلامی تعلیمات سکھائیں گے۔