اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 6 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 6

الذكر المحفوظ 6 فنون اور سائنس و حکمت کا نچوڑ اور ایسی تاریخی دستاویز ہے جس میں ارضی بادشاہت کے قوانین بھی پیش کیے گئے ہیں۔“ پھر لکھتے ہیں: تاریخ عرب از فلپ کے حتی ، ناشر : آصف جاوید برائے نگارشات، باب 5 صفحہ 35 ) مسلمانوں کے نزدیک دینیات، فقہ اور سائنس دراصل ایک ہی شمع کی کرنیں ہیں۔لہذا تعلیم و تربیت کے لیے قرآن سائنس کے رہنما اور ایک درسی کتاب کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی یونیورسٹی جامعہ الازہر جیسے ادارے میں اس کتاب کو اب بھی سارے نصاب کی اساس قرار دیا جاتا ہے۔“ (حوالہ مذکورہ صفحہ 37 ) قرآن کریم کی زبان نے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو یکجا کیا اور انہیں ایک زبان قرآن کی زبان پر جمع کیا۔ہر مسلمان جو قرآن کریم سیکھتا ہے اس زبان سے واقف ہوتا ہے۔چنانچہ فلپ کے حتی لکھتے ہیں: شام، عرب اور مصر کی طرح عراق اور مراکش میں ہر جگہ وہی کلاسیکل عربی زبان رائج ہے جس کی تشکیل قرآن نے کی۔“ (حوالہ مذکورہ صفحہ 37 ) دوسرے مذاہب کی کتب اپنے پیرو کاروں کو یکجا کیا کرتیں وہ تو خود اپنی زبانوں کو بھی زندہ نہ رکھ سکیں۔مثلاً وید کے بارہ میں اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ وہ لفظاً محفوظ ہیں تو بھی وہ کتاب کامل ہونے کے لحاظ سے محفوظ نہیں کیونکہ جس زبان میں وہ نازل ہوئے وہ محفوظ نہیں رہی اس لیے اس کے معانی بالکل مشتبہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ان ظاہری سامانوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا ایک ایسا ذریعہ بھی مقرر کیا جو غیر اللہ کے دخل سے بکلی پاک ہے اور وہ ہے الہام کا ذریعہ۔یعنی قرآن کریم کی معنوی حفاظت کے لیے امت محمدیہ میں مجد دین اور مامورین کی بعثت ہوتی رہے گی۔چنانچہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا: إِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْس كُلَّ مِئَةَ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا (سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب ما جاء في قرن المائة) یعنی اس امت کے لیے ہر صدی کے سر پر تجدید دین کے لیے اللہ تعالیٰ ضرور اپنے بندے مبعوث کرتا رہے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے الہام سے تائید یافتہ بندے قرآن کریم کی صحیح تعلیم سے دُنیا کو فیضیاب کرتے رہے۔چودہویں صدی کے سر پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق