اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 184 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 184

الذكر المحفوظ 184 اب یہاں اللہ تعالیٰ دس سورتیں بنانے کا چیلنج دیتا ہے۔موجودہ ترتیب میں سورۃ ھود گیارھویں سورت ہے۔گویا جس نے یہ چیلنج دیا ہے اسے علم تھا کہ دائی ترتیب میں اس سے قبل دس سورتیں درج ہوں گی۔اسی طرح سورۃ حج میں آیت ہے أُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ (الحج:31) اب اس آیت میں جو مضمون بیان ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے تم پر یہ مضامین حلال وحرام کے بیان کیے جاچکے ہیں۔اس آیت میں جو حوالہ دیا جارہا ہے وہ ماقبل مضامین کا ہے اور موجودہ ترتیب میں یہ مضامین سورۃ حج سے قبل کی سورتوں میں ہی بیان ہوئے ہیں۔یعنی سورۃ البقرۃ، مائدۃ ، انعام نجل اور اس سورت کے بعد سورۃ الناس کی ”س“ تک یہ مضامین بیان نہیں ہوئے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ موجودہ ترتیب خدا تعالیٰ کی مقرر فرمودہ ہی ہے اور بدلی نہیں گئی کیونکہ خدا تعالیٰ موجودہ ترتیب کے حوالہ سے ہی بات کر رہا ہے۔پس صحابہ نے قرآن کریم کی جو بھی ترتیب پیش کی وہ وہی تھی جو خدا تعالیٰ کی مقرر فرمود تھی۔سورتوں کی ترتیب کے تو قیفی ہونے پر سورتوں کا باہمی تعلق اور ترتیب مضامین قرآن کریم کی ایک عظیم الشان اندرونی گواہی اور الہی شہادت ہے۔مثلاً سورۃ الفاتحہ کے تمام تر مضامین سورۃ البقرۃ میں قدرے تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔اگر سورتوں میں کوئی ترتیب نہیں تھی تو پھر ان کے مضامین کیسے ایک دوسرے سے مربوط ہو گئے؟ اسی طرح مقطعات کے حوالہ سے سورتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔قرآن کریم میں ایک جیسے مقطعات کی سورتیں ایک ترتیب سے درج ہیں۔سورتوں کی ترتیب پر احادیث اور روایات سے دلائل یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ زمانہ نبوی میں بھی قرآن مجید کی سورتوں کی ایک معروف ،مشہور اور مستعمل ترتیب ضرور تھی جو ترتیب نزول سے مختلف تھی۔اسی ترتیب کے مطابق حفاظ تلاوت کرتے ، اسی کے مطابق نمازوں میں تلاوت ہوتی تھی اور ہر سال رمضان میں اسی ترتیب کے مطابق جس قدر حصہ قرآن نازل ہو چکا ہوتا تھا، جبریل علیہ السلام آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ اس کا دور مکمل کیا کرتے تھے اور اپنی زندگی میں آنے والے آخری رمضان میں آپ نے ایک کی بجائے دومرتبہ دور مکمل کیا۔چنانچہ بخاری میں ہے کہ: عَنْ عَائِشَةَ عَنْ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ كُلِّ سَنَةٍ وَإِنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي صلى الله بخاری کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض القرآن على النبى عادل العلي حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت فاطمہؓ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم