اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 4 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 4

الذكر المحفوظ 4 تقسیم کرتا چلا جا اور جو اسے قبول نہیں کرتے انہیں سمجھاتا چلا جا اور خدا سے دعائیں کر۔یوں تو مخالفین پر حجت تمام کرنے کے لیے قرآن کریم نے اپنے الہی کلام ہونے کے بہت سے دلائل بیان ا کیے ہیں لیکن اس بیہودہ تمسخر کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے الہی کلام ہونے کی ایک ایسی دلیل بیان فرمائی جو اس دور کے منکرین کے لیے چینج کی حیثیت رکھتی تھی۔جو لوگ کہتے تھے کہ تمہارا تو یہ حال کہ ہم تمہیں اسی بستی میں کچل دیں گے ان کو للکارا کہ تم کچلنے کی بات کرتے ہو لیکن ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ اس کلام کی حفاظت ہم خود کریں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ - (الحجر: 10 ) یعنی یقیناً ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔تم نے اسلام کو کیا کچلنا ہے، اسلام کے پیغام میں ادنیٰ سا تغیر و تبدل بھی نہیں کر سکو گے۔تمہاری یہ خوش فہمی تمہارے دیکھتے دیکھتے حسرت میں بدل جائے گی اور تم اپنی ان کوششوں میں اور حسرتوں میں ناکام و نامرادر ہو گے اور اسی نامرادی میں مرو گے۔تمہارے نقشِ قدم پر چلنے والی تمہاری نسلیں بھی انہی حسرتوں کو سینوں میں لیے اس دُنیا سے کوچ کر جائیں گی پھر اُن کی نسلیں اور پھر اُن کی نسلیں اور نسلاً بعد نسل اسلام اور اسلام کے پیغام کو نابود کرنے کی کوششیں کرنے والے اپنے نامراد انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے قیامت تک انہی حسرتوں کی آگ میں جلتے اور مرتے چلے جائیں گے مگر کسی دشمن کو سی زمانہ میں بھی اپنی مراد نہ آتی دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ ایک نہایت ہی زبردست آیت ہے اور ایسی عجیب ہے کہ اکیلی ہی قرآن مجید کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔اس میں کتنی تاکیدیں کی گئی ہیں۔پہلے ان لایا گیا ہے پھر نا کی تاکید نخن سے کی گئی ہے اور پھر آگے چل کر ایک اور ان اور لام لایا گیا ہے۔گویا تا کید پر تاکید کی گئی ہے۔کفار نے إِنَّكَ لَمَجْنُون کے جملہ میں دوہری تاکید سے کام لے کر تمسخر کیا تھا۔اس کے جواب میں اللہ تعالی تاکید کے چار ذرائع استعمال کرتا ہے اور فرماتا ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: 10) سنو! ہم نے ہاں یقیناً ہم نے ہی اس شرف وعزت والے کلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتارا ہے اور ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یقیناً ہم اس کی خود حفاظت کریں گے۔اللہ اللہ کتنازور ہے اور کس قدر حتمی وعدہ ہے۔( تفسیر کبیر جلد سوم زیر تفسیر المجر آیت 10 صفحہ 50) اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ قرآن شریف آج تک محفوظ ہے؟ اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ