اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 153
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 153 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارا کرنا اور اپنے کام میں ست نہ ہونا اور کسی کے رعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کرسکتا۔اور پھر جب دوسرا زمانہ آیا یعنی فتح اور اقتدار اور ثروت کا زمانہ، تو اس زمانہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق عفو اور سخاوت اور شجاعت کے ایسے کمال کے ساتھ صادر ہوئے جو ایک گروہ کثیر کفار کا انہی اخلاق کو دیکھ کر ایمان لایا۔دکھ دینے والوں کو بخشا اور شہر سے نکالنے والوں کو امن دیا۔ان کے محتاجوں کو مال سے مالا مال کر دیا اور قابو پا کر اپنے بڑے بڑے دشمنوں کو بخش دیا۔چنانچہ بہت سے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق دیکھ کر گواہی دی کہ جب تک خدا کی طرف سے اور حقیقۂ راستباز ہو یہ اخلاق ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے پرانے کینے یکلخت دور ہو گئے۔آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کر کے دکھلا دیا وہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔قُلْ اِنَّ صَلوتِی وَ نُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِين [الانعام : 163] یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لیے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لیے ہے تا میرے مرنے سے ان کو زندگی حاصل ہو۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 447 پانچواں سوال: زیر عنوان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دوزمانے ) آنحضور نے کی صداقت کا ایک ثبوت آپ کا ایمان کامل الوضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اپنے اوپر نازل ہونے والی تعلیم پر کامل ایمان اس بات کا ثبوت ہے کہ جبکہ آپ قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتے تھے آپ اس میں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غیر متزلزل ایمان کے بارہ میں فرماتا ہے : آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ (البقرة : 286 ) کہ سب سے پہلے اپنے پر نازل ہونے والی تعلیم پر خود رسول کامل ایمان لایا اور مومن بھی۔چنانچہ اس حوالہ سے جب آپ کی سوان پر نظر دوڑائیں تو حضرت ابوطالب کے پاس