اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page xiii of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page xiii

xiii وراق جو قاری کو الجھانا چاہتا ہے، اس مذموم مقصد کو نا کام کرنے کے لیے اس کتاب میں قاری کی آسانی مدنظر رکھی گئی ہے اور اس آسانی کے لیے بسا اوقات مضمون کو مختصر طور پر دہرایا بھی گیا ہے۔پس یہ اعادہ اور تکرار مضمون کی جامعیت اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اور قاری کی آسانی کے لیے ضروری سمجھی گئی ہے۔ایک اور بات اس ضمن میں درج کرنا مناسب معلوم ہوتی ہے کہ اعتراضات کے جواب دیتے ہوئے علما الزامی طور پر معترضین کے مذہب اور ان کی کتب کی حقیقت بھی ظاہر کرتے اور بتاتے کہ پہلے اپنے گھر کی تو خبر لوا بعینہ یہی اعتراضات تمہارے مذہب اور کتابوں پر بھی پیدا ہوتے ہیں۔پس اے نادانو ! تعصب اور اسلام پر حملہ کے شوق میں اپنے ہی بخیے ادھیڑ رہے ہو۔نتیجہ یہ ہوتا کہ بجائے لینے کے دینے پڑ جاتے۔اب ابن وراق سے منسوب اس کتاب میں اعتراضات کرنے کے لیے ایک چالا کی یہ کی گئی ہے کہ نا معلوم مصنف خود کو Secular اور Rationalist ظاہر کرتے ہوئے عیسائیت اور یہودیت کے خلاف ایسا طرز عمل اپنا تا ہے کہ جواب دیتے وقت عیسائیت اور یہودیت کی قلعی نہ کھولی جائے۔اعتراض کرتے ہوئے رویہ یہ اختیار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار نہیں مگر حوالے زیادہ تر عیسائی مستشرقین کے ہی دیتا ہے۔نیز تعصب بھی وہی جھلکتا ہے جو بالعموم ایک تنگ نظر اور متعصب مذہبی ملا کی میراث ہے اور خاص طور پر عیسائی مستشرقین میں اسلام کے خلاف ملتا ہے۔اگر چہ یہ کوئی ایسی وجہ تو نہیں کہ اس بنیاد پر ہم یہ موقف اختیار نہ کرسکیں کہ اگر یہ اعتراض اسلام پر یا قر آن پر اُٹھاؤ گے تو نتیجہ تمام مذاہب اور اُن کے صحائف سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا لیکن پھر بھی کوشش زیادہ تر یہی کی گئی ہے کہ جوابات میں تاریخی منطقی اور عقلی پہلو کو ہی مدنظر رکھا جائے اور ساتھ ساتھ قارئین کو یہ علم بھی ہوتا رہے کہ یہ اعتراض صرف اسلام پر ہی نہیں بلکہ تمام ادیان عالم پر کیا جارہا ہے اور ابن وراق کو بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ خواہ کسی بھی دجل سے کام لو، اسلام سے مقابلہ کرو گے تو نصیب میں نامرادی اور نکبت ہی لکھی جائے گی۔چنانچہ زیر نظر کوشش میں اس پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ اسلام ایسا کمزور اور مجبور نہیں ہے کہ اپنے خلاف اُٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب کے سلسلہ میں دوسرے مذاہب کی کمزوریوں کے بیان کو بطور سہارا استعمال کرے اور پھر ان مذاہب کا اپنی بنیادوں سے ہٹ جانا بھی علمی دنیا میں اب اتنا مسلم ہو چکا ہے کہ اس کتاب میں زیادہ تفصیل سے ان کا بیان موجب طوالت اور تضیع اوقات ہوگا۔چنانچہ برسبیل تذکرہ مختصر طور پر تو اس حقیقت کو بیان کر دیا گیا ہے کہ ان اعتراضات کا شکار تمام مذاہب اور صحائف اس طرح ہوتے ہیں کہ کوئی جواب بن نہیں پڑتا جبکہ اسلام ایک ایسا حصن حصین ہے کہ اس سے ٹکرا کر ہر اعتراض پاش پاش ہو جاتا ہے۔اور اسی محفوظ قلعہ کے اندر دوسرے مذاہب اور صحائف کو بھی پناہ لینا پڑتی ہے۔اور دیانت دارانہ مطالعہ کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آخر کار مذاہب عالم کو اپنی سچائی کے ثبوت کے لیے اسلام سے بڑی اور کوئی دلیل نہیں مل سکتی۔