اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 107 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 107

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 107 ہے (ھمیان الزاد ) جس کی وجہ سے ہم اس روایت کو کلی طور پر رد نہیں کر سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کا حل سمجھا دیا ہے جو یہ ہے کہ جب مسلمان ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تو مکہ والوں کو اُن کا حبشہ جانا بڑا بُر الگا اور اُنہوں نے اپنے بعض آدمی نجاشی شاہ حبشہ کے پاس بھیجے کہ کسی طرح اُس کو سمجھا کر مہاجرین کو واپس مکہ لے آئیں (سیرۃ الحلبیہ ) اور تاریخوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس وقت یہ سجدہ والا واقعہ ہوا۔اس وقت کچھ مہاجرین حبشہ سے لوٹ کر مکہ آگئے اور جب اُن سے لوگوں نے پوچھا کہ تم لوگ واپس کیوں آگئے ہو تو انہوں نے کہا ہمیں تو یہ اطلاع پہنچی تھی کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں (ابن خلدون ) مکہ کے جو لوگ اُن سے ملے تھے انہوں نے کہا کہ مکہ والے تو کوئی مسلمان نہیں ہوئے۔بات یہ ہے کہ تمہارے رسول نے قرآن کی کچھ آیتیں سی پڑھی تھیں جن سے شرک کی تائید ہوتی تھی۔اس لیے تمہارے رسول کے ساتھ مل کر مکہ والوں نے بھی سجدہ کر دیا مگر جبکہ بعد میں تمہارے رسول نے ان آیتوں کو منسوخ قرار دے دیا تو مکہ والے پھر اپنے دین کی طرف لوٹ آئے۔یہ باتیں سُن کر وہ مہاجر پھر واپس حبشہ چلے گئے۔(سیرۃ الحلبیہ ) سورہ نجم کی تلاوت کا واقعہ اور مسلمانوں کے حبشہ سے آنے کا واقعہ اتنا قریب قریب ہے کہ خود جغرافیہ اس کو رڈ کرتا ہے۔مکہ سے اس زمانہ کی بندرگاہ شعیہ کا فاصلہ اکیلے سوار کے لیے کم از کم چار پانچ دن کا بنتا ہے۔چنانچہ زرقانی میں لکھا ہے مسافتها طويلة جدا کہ مکہ سے شعیہ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے اور وہاں سے حبشہ کی بندرگاہ کا فاصلہ بھی کوئی چار پانچ دن کا بنتا ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں لوگ صرف بادبانی کشتیوں میں سفر کرتے تھے اور وہ بھی ہر وقت نہیں چلتی تھیں کیونکہ کوئی جہاز رانی کی کمپنیاں نہیں ہوتی تھیں جب کسی ملاح کو فرصت ہوتی تھی وہ اپنی کشتی اُدھر لے آتا تھا جس میں بعض دفعہ مہینوں کا فاصلہ ہو جاتا تھا اور حبشہ کی بندرگاہ سے لے کر اُس زمانہ کے حبشہ کے دارالحکومت کا فاصلہ کوئی دو مہینہ کے سفر کا ہے۔گویا اگر یہ خبرسورہ نجم کی تلاوت کے بعد مکہ سے جاتی اور پھر مسلمان وہاں سے روانہ ہوتے تو مختلف فاصلوں اور دربار حبشہ کی اجازت وغیرہ کے زمانہ کو ملا کر کوئی اڑہائی تین ماہ میں لوگ واپس آسکتے تھے۔مگر وہ سجدہ والے واقعہ کے بعد پندرہ بیس دن کے اندراندر واپس آگئے۔کیونکہ مسلمان حبشہ جانے کے لیے رجب میں روانہ ہوئے تھے اور شعبان و رمضان حبشہ میں ٹھہرے اور شوال میں واپس پہنچ گئے (زرقانی) اور حبشہ ٹھہر نے اور واپس مکہ پہنچنے کا کل عرصہ تین ماہ سے بھی کم بنتا ہے (سیرۃ الحلبیہ ) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ نجم کی تلاوت والا واقعہ بنایا گیا ہے یعنی بعض مکہ کے سرداروں نے پہلے سے یہ تدبیر سوچی اور کوئی سوار یہ