اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 105 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 105

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 105 شیطانی آیات شیطانی آیات کا قصہ ایک ایسا قصہ ہے جو کہ مخالفین کی طرف سے تکرار کے ساتھ یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے کہ رسول کریم نے قرآن کریم میں نعوذ باللہ رد و بدل کیا ہے۔ذیل میں ہم یہ دیکھیں گے کہ شیطانی آیات کا قصہ در اصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کی بددیانتی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات اخلاق عالیہ کی ایسی کامل اور جامع صورت تھی اور آپ اخلاق فاضلہ کے ایسے بلند مقام پر فائز تھے کہ آپ کی سیرت کا مطالعہ دیانت دار قاری کو اس یقین محکم پر قائم کر دیتا ہے کہ آپ ایسی ادنی ادنیٰ باتوں سے بالا۔بہت بالا تھے۔آپ کے بارہ میں سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ زندگی کے کسی موڑ پر آپ کبھی ادنی سی بھی بددیانتی کی مرتکب ہوئے ہونگے۔ابن وراق بھی خدا تعالیٰ کے قائم فرمودہ حفاظت قرآن کے بے نظیر انتظام کے ہر پہلو کے بارہ میں عام قاری کے دل میں شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہو ا اب یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ قرآن کریم جن لوگوں کے ہاتھوں سے ہم تک پہنچا ہے وہ دیانت داری کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش میں خود بددیانتی کی ایک اور فتیح مثال قائم کر دی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے سید المعصومین، الصدوق الامین، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نشانہ بنانے کی پلید جسارت کرتا ہے۔ابن وراق کہتا ہے: We also have the case of the Satanic Verses, which clearly show that Muhammad himself suppressed some verses۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg 112) ”ہمارے پاس شیطانی آیات کا قصہ بھی ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ محمد (ﷺ) نے خود بھی کچھ آیات خرد برد کی ہیں۔“ تاریخ اسلام میں صرف ایک قصہ پیش کیا جاتا ہے جس میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی رد و بدل سے کفار کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی کفار کی ہی ایک سازش تھی جو حالات اور واقعات کے مطالعہ سے خوب کھل کر سامنے آجاتی ہے۔اس واقعہ کے بارہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: مسلمان مفسر کہتے ہیں کہ یہ آیتیں جو آپ نے پڑھیں کہ وتلك الغرانيق العلى و ان شفاعتهن لترتجی یہ قرآن کا حصہ نہیں تھیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے بعد میں ان کو منسوخ کر دیا۔چنانچہ موجودہ قرآن میں یہ آیتیں نہیں ہیں۔وہ اس کہانی کی حقیقت یہ بیان کرتے ہیں