اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 100 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 100

100 الذكر المحفوظ was brought into contact that, neither when a poverty-stricken and hunted fugitive, nor at the height of his prosperity, did he ever have to complain of treachery from those who had once embraced his faith۔(H۔M۔Hyndman: The Awakening of Asia, London 1919, p۔9۔) اس خدا کے رسول بشر ( ﷺ) نے ایمان لانے والوں پر اپنی قوت قدسیہ کی ایسی تاثیر ڈالی کہ نہ تو افلاس اور مصائب کی آندھیوں میں اور نہ ہی حالت کیسر میں کبھی اُن سے ادنی سی دھو کہ دہی یا فریب کی شکایت ہوئی۔پس اس درجہ باوفا اور پاکباز جانثاروں کے بارہ میں کیسے سوچا جاسکتا ہے کہ وہ بلا وجہ آن واحد میں غداری کے مرتکب ہو گئے اور پھر غداری بھی ایسی کہ سب ہی اس پر متفق ہو گئے کہ قرآن کریم میں تحریف اور تغیر و تبدل کیا جائے؟ کوئی ایک بھی حقیقت بیان کرنے والا نہ بچا اور اتنی خاموشی سے یہ کام کیا کہ ہمعصر مخالفین کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ذرا تجزیہ تو کیجیے کہ تاریخ عالم کے اس سب سے بڑے فراڈ پر وہ لوگ متحد ہو گئے جن کی عورتیں ابھی ابھی اس کلام کی حفاظت میں بیوہ ہوئی تھیں، جن کے یتیم بچے ابھی مدینہ کی گلیوں میں کھیل رہے تھے، جن کی بوڑھی مائیں ابھی اپنے اُن جوان بچوں کی یاد میں اشک فشاں تھیں جن کی شہادت کو زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ہاں کیسے ممکن ہے کہ وہ قوم غدار ہوگئی ہو جس نے اپنے رسول کے پہلے جانشین کی زبان پر اپنے آقا کی وفات کے فوراً بعد یہ عہد کیا تھا کہ اگر مدینہ کی گلیوں میں کتے بھی عورتوں اور بچوں کی لاشوں کو نوچ رہے ہوں تب بھی وہ لشکر ضرور جائے گا جس کو آنحضور تیار کر کے گئے ہیں۔(بحوالہ تفسیر کبیر جلد 6 زیرتفسیر النور 56 صفحہ 385 ) جو اپنے آقا کی وفات کے فوراً بعد بعینہ اسی طرح یمامہ کی جنگ میں اپنے جوانوں کے خون اسلام کی راہ میں بہا چکی تھی جس طرح وہ اپنے آقا کی زندگی میں بہایا کرتی تھی۔کیا ممکن ہے ایسی قوم جو وفاداری کے ایسے ایسے اعلیٰ انفرادی اور اجتماعی نمونے دکھا چکی ہو کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بارہ نمونے دکھائے گئے ہوں، یک بیک غدار ہو جائے؟ کیسے ممکن ہے کہ لاکھوں کی وہ تعداد اتنی خاموشی سے تاریخ انسانی کی سب سے بڑی اور اس قدر غیر ممکن العمل بددیانتی پر اکٹھی ہوگئی ہو اور پھر اس صفائی کے ساتھ کہ کسی دوسرے کو اس کی بھنک بھی نہ پڑی ہو؟ بہر حال ہم گزشتہ سطور میں عقلی طور پر ثابت شدہ اس حقیقت کو نقلی قرائن اور تاریخی واقعات کی روشنی میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد بدلا نہیں گیا بلکہ آج بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ رسول کریم نے امت کے حوالے کیا تھا۔قرآن مجید کے اعراب (حرکات ) و نقاط حضرت علی نے اپنے دور خلافت میں نحو ( یعنی عربی گرائمر ) کے چند قواعد بتا کر اپنے ایک گورنر ابوالاسود دولی کو ارشاد فرمایا کہ اس کے مطابق مزید قواعد وضع کرو ( تاریخ الخلفاء حالات حضرت علی صفحہ 228) اس سے قبل