انوارالعلوم (جلد 9) — Page 54
۵۴ جماعت احمدیہ کے عقائد آنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔دین اور مذہب کامل ہو چکا ہے اب اس قسم کے مامور کی ضرورت نہیں جو امت محمدیہ سے نہ ہو۔ضرورت صلح پھر ہمیں ان لوگوں سے یہ بھی اختلاف ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں مامور کے آنے کی غرض محض شریعت کالانا نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ بتایا گیا ہے کلام الہٰی کی صحیح تفسیراور یقین اور وثوق کا پیدا کرنا ہوتا ہے اور اپنے نمونہ سے لوگوں کی اصلاح کرنا اس کا کام ہوتا ہے۔شریعت کے حاصل ہو جانے سے یہ ضرورت پوری نہیں ہو جاتی۔صرف اس صورت میں رسول کریم ﷺ کے بعد ہر خم کے مامور کی ضرورت باطل ہو سکتی ہے جبکہ امت محمدیہ ؐ میں کسی قسم کا فساد پیدا ہی نہ ہوتا لیکن ذرا بھی کوئی شخص آنکھ کھول کر دیکھے تو چاروں طرف اس کو فسادہی فساد نظر آئے گا۔پھر کیسے تعجب بلکہ حماقت کی بات ہے کہ لوگ کہتے ہیں رسول کریم کے بعد بیماری تو ہوگی لیکن آپ ؐکے بعد کوئی طبیب نہیں ہو گا۔اگر بیماری ہوگی تو طبیب بھی ضرور ہو گا۔اگر طبیب نہیں آتا تو بیماری بھی نہیں ہونی چاہئے۔مگر مسلمانوں کی مذہبی اخلاقی اور روحانی کمزوری تو اب اندھوں کو بھی نظر آتی ہے۔معارف قرآن کریم پھر ہمارا ان لوگوں سے یہ اختلاف ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں قرآن شریف اپنے معارف اور مطالب ہمیشہ ظاہر کرتا رہتا ہے مگر ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ سب معارف پچھلے لوگوں پر ختم ہوگئے اب یہ کلام نعوذ بالله ایسی ہڈی کی طرح ہے جس سے سارا گوشت نوچ لیا گیا ہو۔تعجب ہے دنیا کے پردے پر تو نئے علوم نکلیں مگر خدا کے کلام سے کوئی نیا نکتہ نہ نکلے۔خداتعالی دعائیں سنتا ہے پھر ہمارا یہ اختلاف ہے کہ ہم لوگ اس بات پر یقین اور وثوق اگتے ہیں کہ الله تعالی مومنوں کی دعائیں سنتا ہے مگر یہ لوگ ان باتوں کی ہنسی اڑاتے ہیں۔نشانات پھر ہم لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالی ان شرائط کے ساتھ اپنی قدرت کے نشانات اب بھی ظاہر کرتا ہے جو قرآن شریف میں اس نے بتائی ہیں لیکن ہمارے مخالفین کے دو گروہ ہیں۔ایک تو وہ ہے جو کہتا ہے کہ اس تعلیم کے زمانہ میں ایسی باتیں مت کرو۔اور دوسرا گروہ وہ ہے جو کہتا ہے خدا تعالی کی قدرت نمائی تبھی ہو سکتی ہے جب کہ وہ اپنے مقرر کردہ قوانین کو بھی توڑ دے اور اپنی سنت کے خلاف کرے۔اسی وجہ سے وہ ایسی باتیں دنیا میں