انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 52

۵۲ جماعت احمدیہ کے عقائد بغیر اس کے ہم خدا تعالی کی رضاء کو حاصل نہیں کر سکتے۔پس وہ دنیا کی اشد ترین مخالفت کو جس سے بڑھ کر اور مخالفت نہیں ہوتی خداتعالی کی رضاء کے لئے برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔دُعا ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ خداتعالی د عاؤں کو قبول کرتا ہے۔جزا ءو سزا ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر انسان جب مرجاتا ہے اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کیا جا تا ہے اس حصہ میں جس کو قبر کا زمانہ کہتے ہیں مگر جس سے مراد مٹی کی قبر نہیں بلکہ اس سے مراد وہ خاص مقام ہے جس میں مردوں کی ارواح رکھی جاتی ہیں۔اور اس وقت بھی جزاء و سزا ملے گی جب یہ قبر کا زمانہ ختم ہو جائے گا اور حشرکبیر کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔رحمتِ الہٰی ہمارا یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سب صفات کے ساتھ اپنا اثر ظاہر کرتی ہے اور اس کی رحمت عظیم کے ماتحت آخر ایک دن ایسا آئے گا کہ تمام کے تمام بنی نوع انسان خواہ کیسی ہی بدی اور بد کاری اور کیسے ہی فسق اور کفر میں شرک یا دہریت میں مبتلاء ہوں ان کو اس کی رحمت اپنے اندر سمیٹ لے گی اور بالآخر وہ بات جو انسان کی پیدائش کے وقت خداتعالی نے ان سے کہی پوری ہو جائے گی یعنی ما خلقت الجن والإنس الأ ليعبدون ، تمام کے تمام اس کے عبد بندے اور اس کے عبادت گزار ہو جا ئیں گے۔ہر شخص اپنے درجے کے مطایق بدلہ پائے گا۔نہ کسی کی کوئی نیکی ضائع ہوگی اور نہ کسی کی بدی ضائع ہوگی۔نادان ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ آخر میں جب دوزخ کے سلسلہ کو مٹا دیا جائے گا تو پھر سزا کا ہے کی ہوئی۔دنیا میں روزانہ لوگوں کو سزا ملتی ہے پھر وہ چُھٹ جاتے ہیں مگر وہ سزا ہی کہلاتی ہے۔دوزخ کی سزا تو اپنے زمانے کی وسعت میں اتنی ہے کہ اس کا خیال کر کے بھی دل کانپ جاتا ہے کہ اللہ تعالی اس کو قرآن کریم میں اَبَد کے لفظ سے ذکر کرتا ہے لیکن ہمیشہ گویا اس کو یوں سمجھنا چاہئے کہ وہ نہ ختم ہونے والی ہو گی تو کون شخص ایسا ہے جواتنی لمبی سزا برداشت کر سکے۔پھر اس سے زیادہ کیا سزا ہو سکتی ہے کہ ایک خدا تعالی کا نافرمان اس وقت جب کہ اس کے بھائی قرب الہٰی کے میدان میں دوڑ رہے ہوں گے اور آناًفاناً روحانیت میں ترقی کر رہے ہو نگے وہ اپنی گناه آلود روح دوزخ کی آگ میں جلا کر صاف کر رہا ہو گا کسی گھوڑ دوڑ کے سوار سے پوچھو کہ اس کو دوڑتے وقت روک لیا جائے اور بعد میں چھوڑا جائے تو اس کو کتنا صدمہ پہنچتا ہے۔