انوارالعلوم (جلد 9) — Page 32
۳۲ من أنصاري إلى الله (تحریر فرموده ۱۰- فروری ۱۹۲۵ء) اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ صلی علی رسول الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھو الناصر قل ان صلاتی و نسکی ومحياي ومماتي لله رب العلمين برادران جماعت احمدیہ ! السلام عليكم ورحمة الله وبركاتہ۔آج سے آٹھ ماہ پہلے میں نے آپ لوگوں سے مشورہ دریافت کیا تھا کہ کانفرنس مذاہب لندن نے جو مجھے لیکچر کی درخواست دی ہے کیا میں اس کو قبول کر کے خوا نگلستان جاؤں یا مضمون لکھ کر بعض اور دوستوں کے ہاتھ روانہ کردوں۔میری تحریر کے جواب میں جماعتہاۓ احمدیہ میں سے نوے فی صدی نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہے اور مجھے خود جاکر اہل مغرب کو اسلام کی طرف بلانا چاہئے۔اخراجات کثیرہ جن کا اس سفر میں پیش آنا ایک لازمی امر تھا ان کے متعلق احباب نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس وقت قرضہ کے طور پر ان کا انتظام کر لیا جائے بعد میں جماعتہاۓ احمدیہ اس روپیہ کو خاص چندہ کے طور پر جمع کر دیں گی۔میں نے اس مشورہ کو با وجود سخت مشکلات کے قبول کرلیا اور انگستان کی طرف روانہ ہوگیا۔اللہ تعالیٰ نے جس رنگ میں اس سفر کو برکت دی اور سلسلہ احمدیہ کی شہرت دوام کا موجب بنایا اور اس کے ذریعہ سے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اس کا نام بلند کیا اور ہزاروں قلوب میں سلسلہ کی ہیبت اور عظمت کو قائم کیا وہ محتاج بیان نہیں سب احباب اس سے واقف ہیں یہ شہرت قادیان بیٹھے ہوئے دس پند رہ سال میں بھی لاکھوں روپیہ خرچ کر کے نہیں ہو سکتی تھی مگر یہ جو کچھ تھا ایک بیج تھا۔تیرہ سو سال کی پیشگوئیاں صرف اسی قدر شہرت کا سامان پیدا کر کے ختم نہیں ہو سکتیں اس سفر کا نتیجہ موجودہ نتیجہ