انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 617

۶۱۷ تجارت مضبوط ہو جائے گی۔اس کے بعد میں پھر ایڈیٹر ملاپ اور ان کے ہم آواز لوگوں سے بھی کہتا ہوں کہ اوپر جو مشورہ میں نے دیا ہے ، وہ اپنے مذہب کے مطابق دیا ہے۔ہمارا مذ ہب سختی کا حکم نہیں دیتا۔اس لئے اس نازک وقت میں بھی جب کہ ہمارے احساسات کو نہایت بُری طرح کُچلا گیا ہے ، ہ م امن اور صلح کی تعلیم دے رہے ہیں۔لیکن میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آریہ سماج کے کسی ممبر کا کوئی حق نہیں کہ وہ سرحدی افغانوں کے اس فعل پر کوئی اعتراض کرے۔آریہ سماج کی اپنی تعلیم یہ ہے کہ مذہب کی ہتک کرنے والے کو ملک سے نکال دیا جائے۔دیکھئے پنڈت دیانند صاحب اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں کیا کہتے ہیں۔’’ جو شخص وید اور عابد لوگوں کی وید کے مطابق بنائی ہوئی کتابوں کی بے عزتی کرتا ہے۔اس وید کی بُرائی کرنے والے منکر کو ذات، جماعت اور ملک سے نکال دینا چاہئے۔" (ستیارتھ پرکاش صفحہ ۵۹۔ایڈیشن چہارم) اگر پنڈت ویاند صاحب کے نزدیک و ید ہی نہیں بلکہ وید کے مطابق لکھی ہوئی کتابوں کی بُرائی کرنے والے کو بھی ملک سے نکال دینا چاہئے۔اور شاید اس قانون کے مطابق ملاپ اور پر کاش وغیرہ کی بُرائی کرنے والے کو بھی ملک سے نکال دینا چاہئے کیونکہ ان اخبارات کو بھی ویدوں کے مطابق تی لکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ جس جگہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کی جائے اور اس ہتک پر دوسرے ہندو رضامندی کا اظہار کریں تو وہی سلوک جو پنڈت دیانند صاحب نے مذہب کی ہتک کرنے والوں کے لئے مقرر کیا ہے، ان سے نہ کیا جائے۔کیا صرف و ید کی ہتک کرنے والا ہی اس امر کا مستحق ہے کہ اسے ملک سے نکالا جائے۔دو سرے مذاہب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بھی اپنے مذہب کی ہتک کرنے والوں کو ملک سے نکال دیں۔مگر میں باوجود پنڈت صاحب کی اس تعلیم کے سرحد کے خوانین سے یہی کہوں گا کہ ہم قرآن کریم کے ماننے والے ہیں جو رحم اور صلح کی تعلیم دیتا ہے۔پس وہ اپنے خدا داد رسوخ سے کام لے کر اپنے بھائیوں کے جو شوں کو ٹھنڈا کریں اور اقتصادی تدابیر کے اختیار کرنے سے زیادہ کچھ نہ کریں۔اور جو ہندو مسلمانوں کے چھوت چھات اختیار کرنے اور سود ترک کرنے کے باوجود بھی ان کے ملک میں رہنا چاہیں انہیں اپنے ملک میں امن سے زندگی بسر کرنے دیں جیسا کہ وہ اب تک کرتے رہے ہیں۔آخر میں میں ملاپ کے ایڈیٹر صاحب کی اس شر انگیز تحریر کی طرف خود ہندو صاحبان کو