انوارالعلوم (جلد 9) — Page 567
۵۶۷ ہمیں اس دھوکے میں نہیں آنا چاہئے۔میرے نزدیک انگریزوں اور مسلمانوں کے اکثر اختلافات کا اب فیصلہ ہو چکا ہے۔آئنده تمدنی جنگ میں یہ دونوں مل کر اپنے اپنے حقوق کی حفاظت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔انگلستان کی نجات مسلمانوں سے صلح رکھنے میں ہے اور مسلمانوں کا فائدہ انگریزوں سے تعاون کرنے میں۔ہم سب دنیا سے نہیں لڑ سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب سے معاہدہ کیا تھا۔۱؎ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم تدابیر اختیار نہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں۔کہ باوجود بیسیوں قسم کے عیوب کے انگریزی قوم تمام موجودہ غیر اسلامی اقوام سے ہمارے زیادہ قریب ہے۔اور در حقیقت دوسری قوم صرف روسیوں کی ہے جو اسلام کو سختی سے مٹا رہی ہے جیسا کہ احمدی مبلّغوں اور دوسرے بہت سے ایسے مسلمانوں کی عینی شہادت سے ثابت ہے جو پہلے برطانوی حکومت کے سخت دشمن تھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ سیاسی طور پر میرے اس خیال سے متفق نہ ہوں ان کو بھی ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اس موجودہ مسئلہ میں ہمیں برطانیہ کے قائم مقاموں سے کوئی جنگ نہیں ہے۔میری سکیم جس قدر پیش کردہ تجاویز ہیں ان کے نقائص بیان کرنے کے بعد میں اپنی تجاویز کو پیش کرتا ہوں۔میرے نزدیک ہمیں قدم اُٹھانے سے پہلے ہی غور کر لینا چاہئے کہ ہمارا مقصد اس وقت کیا ہے۔میرے نزدیک ہمارا مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت ہے۔مسلم آؤٹ لک کا معاملہ اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کا ایک ظہور ہے۔پس ہمیں بجائے اس پر اپنا زیادہ وقت خرچ کرنے کے اس سے جس قدر ممکن ہو فائدہ اٹھانا چاہئے۔مسلم آؤٹ لک کے فیصلہ نے مسلمانوں کی آنکھیں ان کی بے بسی کے متعلق کھولدی ہیں۔لوہا گرم ہے۔اس کو اس طرح کُوٹنا ہمارا کام ہے کہ اس سے اسلام کے لئے کار آمد اشیاء تیار ہو سکیں۔ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس کام کو جاری ہی نہ رکھیں بلکہ ترقی دیں جو مسلم آؤٹ لك کرتا تھا۔اور اس کے لئے میں اپنی جماعت کی طرف سے آٹھ سو روپیہ کی امداد کا اعلان کرتا ہوں۔میرے نزدیک کم سے کم پانچ ہزار روپیہ اس کام کے لئے جمع کر دینا چاہئے اور یہ روپیہ مسلم آؤٹ لُک کی ترقی پر خرچ ہونا چاہئے اور مسلم آؤٹ لک کے خریداروں کے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہندوؤں کو یہ جرأت کیوں ہوئی؟ اس کے بعد اصل معاملہ کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوسرے بزرگان اسلام کو عموماً