انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 530

۵۳۰ کہ حقیقت ظاہر ہو رہی ہے۔تبلیغ جو اشاعت مذہب کا ایک مقدس فرض تھا ایک سیاسی آلہ کار بنا لیا گیا ہے۔ملک کے تمام گوشوں میں بیواؤں، یتیموں اور غریب و بے کس لوگوں کو ورغلا کر ہندو بنایا جارہا ہے۔مسلمان بادشاہوں کے بناوٹی مظالم سناسنا کر نومسلم قوموں کی قومی غیرت بھڑکائی جاتی ہے اور انہیں پھر ہندو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہندوؤں کے مقروض مسلمانوں پر ساہو کاروں کا دباؤ ڈال کر انہیں اسلام سے پرانے کی کوشش کی جاری ہے۔چماروں اور چوہڑوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں سے چھوت شروع کر دیں تو ان کو ساتھ ملا لیا جائے گا۔گویا دنیا کے پردہ پر سب سے زیادہ گندی قوم مسلمان ہے۔غرض مختلف قسم کی تدابیر سے جن میں سے بیشتر حصہ ناجائز ہے ہندو مذہب کی اشاعت کی کوشش کی جارہی ہے۔مسلمانوں کا کوئی حق نہیں کہ وہ ہندوؤں کی اس جائز جدوجہد کے خلاف کوشش کریں جو وہ اپنے مذہب کے پھیلانے کے لئے کر رہے ہیں۔بلکہ میرے نزدیک تو جو ناجائز کو شش کی جاتی ہے اس کے خلاف آواز اُٹھانے کا بھی کوئی حق نہیں۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہمارے نقطۂ نگاہ کو ہراک شخص تسلیم کرے۔ہندو آزاد ہیں کہ جس امرکو وہ جائز سمجھتے ہیں اس کے مطابق عمل کریں۔ہم انہیں ان کے عمل کی برائی کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں مگر ہمارا یہ حق نہیں کہ ان کو مجبور کریں کہ جس طرح ہم سمجھتے ہیں اسی طرح وہ عمل کریں۔کیونکہ یہ جبر ہو گا اور جبر اسلام میں جائز نہیں ہے۔مگر اب جبکہ یوپی، بہار، سی پی وغیرہ صوبہ جات میں جہاں ہندو اثر غالب ہے مسلمان مرتد ہو رہے ہیں اور لاکھوں دیہاتی مسلمان خاندان اور شہر کے کمزور مسلمانوں کو رفتہ رفتہ ہند و تمدن کے زیر اثر لایا جا رہا ہے کہ آگے چل کر ان کو باآسانی مرتد کیا جاسکے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔موجودہ حالت کو دیکھ کر ہراک مسلمان سمجھ رہا ہے کہ اگر جلد اس رو کو روکا نہ گیا بلکہ اس کے مقابلہ میں ہندوؤں میں تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری نہ کیا گیا تو تھوڑے ہی دنوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم ہو جائے گی۔اور پیارا اسلام جس نے آٹھ سو سال عزت سے اس ملک میں بسر کئے تھے ایک گمنام بے وطن کی طرح اس ملک سے نکلنے پر مجبور ہو گا۔لیکن ہر اک مسلمان جبکہ اس درد کو محسوس کر رہا ہے وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ کس طرح اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کر سکتا ہے۔وہ اگر ایک کاروباری آدمی ہے تو جب وہ مسلمانوں کا ارتداد یا مذہبی و تمدنی و تعلیمی مشکلات کا حال سنتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے۔کہ کاش! میں آزاد ہو تا۔ملازم یا تاجر یا پیشہ ور نہ ہوتا تو اس علاقہ میں جا کر اپنے بھولے بھٹکے بھائیوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا۔اگر وہ دینی علوم سے ناواقف ہوتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ کاش!