انوارالعلوم (جلد 9) — Page 502
۵۰۲ قرآن کریم کی یہ آیت بھی سائنس کی طرف توجہ دلاتی ہے۔اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۵؎ فرمایا۔زمین و آسمان کی پیدائش میں اور دن رات کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے نشان ہیں۔زمین اور آسان کی پیدائش میں غور کرنے سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی چیز فضول اور بے فائدہ پیدا نہیں کی گئی۔اب دیکھو۔اس آیت میں سائنس کے متعلق کیسی وسیع تعلیم دی گئی ہے۔اشیاء کے فوائد اور پھر یہ نتیجہ کہ کوئی چیز بے فائدہ پیدا نہیں کی گئی یہ بغیر تحقیق کے کیسے معلوم ہو سکتا تھا۔پس قرآن نے خواص الاشیاء کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی یہ سنہری اصل بھی سکھا دیا ہے کہ کسی چیز کو بے فائدہ نہ سمجھو۔ہم نے کوئی چیز فضول پیدا نہیں کی۔گویا لمبی تحقیق جاری رکھنے اور عاجل نتائج سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔پہلے سائنس دان بعض اعضاء جسم انسانی کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ یہ نیچرنے بے فائدہ بنائے ہیں۔اور یہ محض ارتقاء حیوانی کے مختلف دوروں کی یادگار ہیں جن کی اب ضرورت نہیں اِس لئے ان کا کٹوا دینا ہی بہتر ہے کیونکہ وہ کئی دفعہ بیماری کا موجب ہو جاتے ہیں۔مگر علوم مروّجہ کی ترقی اور ان کا بڑھتا ہوا تجربہ اور مشاہدہ اس بات کو رد کر رہا ہے اور ان کو قرآن کے اس سنہری اصل کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔مثلاً انسان کی بڑی آنتوں کے ساتھ چھوٹی انگلی کے برابر ایک زائد آنت ہوتی ہے۔جس کو (VERIFORM APPENDIX) کہتے ہیں۔اس میں بعض دفعہ غذا کے نیم ہضم شدہ ذرات رگ جاتے ہیں۔جن کی وجہ اس کے اندر سوزش ہو کر ورم ہو جاتا ہے۔جسے (APPENDIX) کہتے ہیں۔اور ڈاکٹر عموماً اس کو آپریشن کر کے کاٹ دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ بے فائدہ ہے۔مگر اب اس کے متعلق تجربہ کیا گیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ان کا یہ خیال درست نہ تھا۔چنانچہ انہوں نے بار ہ بندر لئے۔اور ان میں سے نصف کے (APPENDIX ) کاٹ دیئے۔اور سب کو ایک ہی قسم کی غذادی گئی۔مگر بعد میں معلومہوا کہ جن کی یہ آنت کاٹی گئی تھی ان کی چستی میں فرق پڑ گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پہلے ڈاکٹر لوگ معمولی تکلیف پر بھی اس کو کاٹ دیتے تھے مگر اب احتیاط کرتے ہیں۔پہلے اس آنت کا فائده ان کو معلوم نہ تھا مگر فائدہ اس کا تھا ضرور۔اور تجارب سے معلوم ہوا کہ واقعی یہ آنت بے فائدہ نہیں۔بتاؤ اگر اس کے متعلق تجربہ نہ کیا جاتا تو قرآن کریم کے اس اصل کی تصدیق کس طرح ہوتی