انوارالعلوم (جلد 9) — Page 499
۴۹۹ گا۔مثلاً اگر مذہب کی یہ تعریف کی جائے کہ انسان کے دماغ کی وہ ارتقائی حالت جس پر پہنچ کروه علمی ارتقاء سے بعض ایسی باتیں معلوم کرلیتا ہے جو دوسرے معلوم نہ کرسکتے تھے۔یعنی دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ مذہب قلب غیر عامل (SUB CONCINNOUS MIND) کی نشوونما (DEVELOPMENT) کا نتیجہ ہے تو سائنس کا دائرہ بھی یہی ہو گا۔یعنی وہ علوم جو غور و فکر کا نتیجہ ہوں اور اس تعریف کے ماتحت مذہب اور سائنس کا دائرہ الگ الگ نہیں ہو سکتا۔اور اگر مذہب کے یہ معنی ہیں کہ وہ خیالات جو جذبات کا نتیجہ ہوں اور کسی اصول پر ان کی بنیاد نہ ہو تو وہ واہمہ اور قوت متخیلہ کا نتیجہ ہیں نہ کہ مذہب۔ان کو تو زیادہ سے زیادہ لطائف کہہ سکتے ہیں جن پر بحث کی ضرورت نہیں۔پس مذہب اگر قلب کے اُن خیالات کا نام رکھا جائے جو سب کانشس مائینڈ (SUB CONCINNOUS MIND) کے ارتقاء کا نتیجہ ہوں تو وہ سائنس ہی ہے اور مذہب سے جدا نہیں۔ہاں اگر کوئی ایسی بات ہو جس کی بنیاد علم پر نہ ہو۔محض دل کے خیالات ہوں تو وہ و ہم ہے اور غیر حقیقی چیز ہے نہ کہ مذہب۔مذہب اور سائنس میں فرق مذہب اُن صداقتوں کا نام ہے جو لقائے الہٰی سے متعلق ہیں۔اور ان کا علم کائنات عالم کے صانع نے الہام کے ذریعہ دیا ہے۔اور سائنس اُن نتائج کا نام ہے جو کائنات عالم پر انسان خود غور کر کے اور تد بّر کرنے کے بعد اخذ کرتا ہے۔گھر مذہب کے بعض حقائق بھی عقل سے معلوم ہو سکتے ہیں مگر سائنس کی بنیاد محض غور و فکر اور تجربہ و مشاہدہ پر ہے۔آپ اس تعریف کے ماتحت مذہب اور سائنس میں مقابلہ ہی کوئی نہیں۔کیونکہ مذہب خدا کا کلام ہے۔اور سائنس خدا کا فعل۔اور کسی عقلمند کے قول اور فعل میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر کوئی جھوٹا ہو یا پاگل ہو تو اختلاف ہو گا۔خدا کے متعلق دونوں باتیں ممکن نہیں کیونکہ خدا ناقص العقل یا ناقص الاخلاق نہیں۔پس خدا کے قول اور فعل میں فرق نہیں اسی لئے مذہب اور سائنس میں بھی تصادم نہیں۔اِس جگہ سوال ہو سکتا ہے۔کیا واقعی خدا موجود ہے جو کلام کرتا ہے؟ مگر اس وقت خدا کے وجود پر بحث نہیں۔اس لئے فرض کر لو کہ خدا ہے اور اس کی طرف سے تعلیم بھی آئی ہوئی ہے۔پس اگر واقع میں مذہب کوئی چیز ہے تو اس کا سائنس سے تصادم بھی نہیں ورنہ مذہب کاہی انکار کرنا ہو گا۔جب تک مذہب کا نام دنیا میں موجود ہے ماننا پڑے گا کہ خدا بھی ہے۔