انوارالعلوم (جلد 9) — Page 13
ہو۔پھر مبارکہ بیگم نے بتلایا کہ ایک دفعہ میرے آنے سے پہلے اوپر کھڑے ہو کرامتہ الحیی نے ایک مصرعہ کہا۔جس کا مفہوم غالباً یہ تھا ؎ اے بلبل بوستان تُو خاموش کیوں ہے اور مجھ سے کہا کہ میں جب فوت ہو جاؤں گی تو آپ اس پر مصرعے لگانا۔مبارکہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ نہیں میں آپ سے پہلے فوت ہوں گی۔میری وفات پر آپ نے اس پر مصرعے جوڑنے ہوں گے۔تو امتہ الحیی نے کہا نہیں۔میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی اگر آپ نے پھرایسا کہا۔میں پہلے وفات پاؤں گی میری وفات پر اس مصرعہ پر ضرور مصرعے لگانے ہوں گے۔پھر دیکھو میں آخری حالتوں میں بھی بے صبرا اور مایوس نہیں ہوا۔امتہ الحیی جب اپنی مرض الموت میں کرب کی وجہ سے کہتیں کہ دعا کرو کہ مجھ کو آسانی کے ساتھ موت آجاوے تو میں سختی سے کہتا کہ یہ ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس حالت کو نزع کی حالت قرار دے کر خدا تعالی سے مایوس ہو کر یہ دعا کروں کہ تجھ پر موت آئے اور بے گھنیاں اس صورت میں آسان ہوں بلکہ میں نزع کے وقت بھی یہ دعا کرتا تھا کہ خدا ان کے کرب کو دور کر دے۔بھلااتنا تو سوچو کہ میں اگر بے صبرا ہو اتو اتنی باتوں کے ہوتے ہوئے اور اس علم کے باوجو و جو مجھے دیا گیا تھا کیوں سفر اختیار کیا۔مجھ کو یہ علم بھی تھا کہ میری ایک بیوی میرے پیچھے فوت ہو جائے گی مگر میں نے سفر کو ملتوی نہیں کیا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے میرے آنے تک اس واقعہ کو مہلت دے دی ورنہ میں تو یہاں سے ہی اعلان کر کے گیا تھا کہ میرے اس سفر میں بہت سے ابتلاء مقد ر ہیں جن سے بے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہوئی ہے لیکن میں وہ ظاہر نہیں کرتا۔مجھے یہاں سے چلتے وقت بھی علم تھا کہ میری دو بیویوں میں سے ایک مرجاۓ گی۔باوجود اس علم کے پھر بھی میں نے اسلام کی خاطر لمبا سفر اختیار کیا۔اگر بے صبرا ہوتا تو آپ بیٹھ جاتا اور کہتا کہ جاؤ مضمون پڑھ دو۔اگر علم ہوتے ہوئے اور احساس رکھتے ہوئے کہ دو میں سے ایک کی موت مقدّر ہے اور میں جانتا تھا کہ منذر رؤيا اگر بیان کردی جاوے تو واقعہ ہو جاتی ہے میں نے اسلام کے لئے اس سفر کو ملتوی نہیں کیا۔تو کیا اب وفات پر مجھے اس رنگ کا صدمہ ہو سکتا تھا جو ایک دنیا دار کو ہوتا ہے۔کتنے لوگ ہیں کہ اگر وہ شقی القلب نہ ہوں اور میرے جیسے ان کے احساسات ہوں اور ان کو وہ علم ہو جو مجھے علم تھا