انوارالعلوم (جلد 9) — Page 440
۴۴۰ کر کے یہاں آتا ہے وہ اپنے نفس پر کیونکر جبر نہیں کر سکتا اور کس طرح وہ اپنے وقت کو چائے کی د کانوں اور باہر فضول پھرنے پر ضائع کر دیتا ہے۔اگر چائے پر ہی وقت خرچ کرنا تھا تو وہ یہاں کی نسبت ان کے گھروں میں یا بڑے شہروں کے ہوٹلوں میں بہت اچھی مل سکتی تھی اور اگر یہاں ان کے آنے کی غرض سیر و تفریح تھی تو بہتر تھا کہ بجائے میں آنے کے بڑے بڑے شہروں کی سیرگاہوں میں جاتے۔وہ دہلی چلے جاتے اور وہاں وائسرائے کے مکانوں، بادشای عمارتوں کو دیکھتے یا لاہور کی ٹھنڈی سڑک پر سیر کرتے۔پھر لارنس گارڈن ( باغ جناح) میں تفریح حاصل کرتے اور جب چائے کی خواہش ہوتی تو لورینگ ( قبل از تقسیم ہند لاہور کا ایک معروف ریستوران )میں جا کر پی لیتے۔لیکن یہاں آنے کی غرض تو خدا کی باتیں سننا ہے۔اگر یہ غرض مدنظر نہیں تو پھر یہاں آنا بے فائدہ ہے۔ہاں حاجات بھی انسان کے ساتھ بے شک گئی ہوئی ہیں اور ان کا پورا کرنا بہرحال ضروری ہے۔حاجت کو روک کر تو نماز بھی جائز نہیں لیکن جب انسان کسی حاجت کی قضاء کے لئے جائے تو وہ حاجت پوری کر کے واپس بھی آسکتا ہے۔جو دوست واپس نہیں آتے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا خدا کے کلام سے اتنا ہی متاثر ہونا چاہئے کہ پیشاب کے لئے گئے تو واپس آنا ہی بھول گئے۔جب ابھی یہاں ہی تمہارے اندر اثر کی یہ حالت ہے تو گھر پہنچنے پر بالکل ہی اثر جاتا رہے گا اور سب باتوں کو فراموش کردو گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پانسو کے قریب غیراحمدی دوست بھی آئے ہوئے ہیں اور تین سَو کے قریب دوسرے لوگ ہوں گے لیکن کل جلسہ گاہ سے اٹھنے والے دوست زیادہ تر احمدی ہی تھی۔پس آج اپنی اصل تقریر شروع کرنے سے پہلے دوستوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ اگر وہ آرام اور اطمینان سے میری تقریر کو سننا چاہتے ہیں تو بیٹھ سکتے ہیں اور اگر در میان میں بغیر حاجت کے اٹھ کر جانا ہے تو بجائے اس وقت اٹھ کر جانے اور خلل اندازی کے ابھی ہی چلے جائیں تاکہ درمیان میں ان کے اٹھنے سے سامعین کو تو جہ میں خلل نہ واقع ہو اور نہ ان کا وقت ضائع ہو۔اس کے بعد میں چند ضروری متفرق امور کی طرف جو کل کی تقریر کا بقیہ ہیں آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔منہاج الطالبین پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ میں نے پچھلے سال نفس اور اولاد کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر تقریر کی تھی۔میرے نزدیک وہ لیکچر اپنے نفس کی اور اپنی آئندہ نسلوں کی روحانی اور اخلاقی اعلی ٰدرجہ کی تربیت کے متعلق نہایت ہی اہم اور مفید ترین معلومات پر مشتمل ہے۔یہ لیکچر چھپ کر کتابی صورت میں تیار ہو چکا ہے۔بکڈپو نے جو کہ