انوارالعلوم (جلد 9) — Page 405
۴۰۵ اشاعت میں اپنی عمر کو لگادیا جس کو غالباً رہ سچا سمجھتے تھے۔ان کا قتل کرنے والا مسلمان ہے۔یہ بیان کرتا ہے کہ میں نے انہیں اس لئے قتل کیا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف تبلیغ کرتے تھے اور میرا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ غازی سیدها جنت میں جاتا ہے۔بقول خود کابل سے ایک پستول لایا تھا کہ اس کے ڈرایہ ایک کافر کو قتل کرکے خدا کے حضور ثواب حاصل کرے۔یہ واقعہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ایک تو شردھانند صاحب آریوں اور پولیٹیکل جماعتوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے دوسرے وہ ایک ہی ہندو تھے جن کو مسجد میں ممبر پر چڑھا کر جہاں خدا کا کلام پڑھا جاتا اور سنایا جاتا ہے مسلمانوں نے ان سے تقریر کرائی۔اور جس کو اس لئے مسجد میں منبر پر کھڑا کیا گیا کہ اس کے ذریعہ سے ہندو مسلمانوں میں اتحاد ہو - پانچ سال بعد اس قوم کا فرد اسے قتل کرتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس قتل کے نتیجہ میں وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔تو اس لحاظ سے بھی یہ واقعہ اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایک مذہبی فعل ہے۔کسی فساد یا جھگڑے کی بناء پر نہیں بلکہ اس بناء پر کیا گیا ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے۔تیسرے اس لحاظ سے یہ واقعہ اپنے اندر اہمیت رکھتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔آریہ سماج کے لیڈر کے قتل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی پیشگوئی آج سے ۳۴ سال پہلے شائع کی گئی۔آپ نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا ہے جس کی آنکھوں سے خون ٹپکتا ہے۔پچھتا ہے کہ لیکھرام کہاں ہے۔اور ایک اور شخص ہے جس کے متعلق وہ پوچھتا ہے۔اس کا نام آپ کو یاد نہ رہا۔تو دو شخصوں کے قتل کی پیشگوئی تھی۔ان میں سے ایک لیکھرام صاحب تھے اور دوسرے کانام آپ کو اس وقت یادنہ تھا ۱؎ عجیب حکمت ہے کہ پہلے شردهانند صاحب کا نام منشی رام تھا اور مارے جانے کے وقت ان کا نام شردھانند تھا۔اسی وجہ سے حضرت صاحب کو ان کانام یاد نہ رہا۔پھر وہ لیکھرام کے بھی قائم مقام ہیں۔چنانچہ تیج نے لکھا ہے کہ جب لیکھرام کے قتل کی خر جالندھر پہنچی تو سوامی شردھانند صاحب اپناکام چھوڑ کر لاہور آگئے اور سوامی لیکھرام صاحب کا کام انہوں نے سنبھال لیا۔بہرحال آریوں میں سے بڑے پایہ کے لیڈر تھے۔بہت سی باتیں ان کے قتل کی لیکھرام صاحب کے قتل سے ملتی ہیں۔لیکھرام صاحب ہفتہ کے دن جمعہ وعید سے اگلے روزمارے گئے اور ہر جمعرات کو مارے گئے۔جو جمعہ کے ساتھی کا دن ہے۔یہاں بھی قاتل کمبل پوش تھا اور یہاں بھی کمبل پوش ہی ہے۔وہاں بھی قاتل کو پہلے روکا گیا لیکن اس کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور