انوارالعلوم (جلد 9) — Page 370
۳۷۰ حضرت عائشہ کا حبشیوں کاناچ دیکھنا اس کے بعد مصنف ہفوات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ بخاری کتاب الصلوة اور کتاب العیدین اور کتاب الجہاد کی بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا ناچ د کھایا اور یہ کہ آپ کے گھر میں بعض لڑکیوں نے شعر پڑھے۔مصنّف ہفوات اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ (1) حضرت عائشہ نے نامحرموں پر نظر کیوں ڈالی؟ (۲) رسول کریم ﷺنے منع کرناتو الگ رہا خود ان کو ناچ کیوں دکھایا؟ (۳) باوجود حضرت ابو بکرؓ کے شعر پڑھنے سے اور حضرت عمر ؓکے ناچ سے روکنے کے آپ ؐنہ سمجھے کہ یہ منع ہے اور فرمایا کہ ناچے جاؤ چو نکہ یہ امور آپ کی شان کے خلاف ہیں معلوم ہوا کہ یہ احادیث باطل ہیں۔یہ سوال کے گانے سے رسول کریم ﷺنے کیوں منع نہیں فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ شعر خوش الحانی سے پڑھنا اسلام میں جائز ہے اور جب شریعت کے باقی احکام کو چو پردہ اور فحش سے اجتناب کرنے کے متعلق ہیں مد نظر رکھ کر کوئی عورت یا مرد شعر پڑھے تواسے شريعت باز نہیں رکھتی نہ کہیں قرآن کریم میں یہ حدیث میں یہ مذکور ہے کہ شعر کا خوش الحانی سے پڑھنا حرام اور ممنوع ہے۔پھر رسول کریم ﷺ جو دین فطرت لے کر آئے تھے اس امر سے کیوں روکتے؟ حضرت ابوبکر نے جو روکا تو یہ ان کا اجتہاد تھا اور رسول کریم ﷺنے چونکہ ان کو روکنے سے منع فرما دیا تھا معلوم ہوا کہ ان کا یہ اجتہاد غلط تھا۔پس جب شارع نبی ایک امر کو جائز قرار دیتا ہے تو کسی شخص کا حق نہیں کہ عورت یا مرد کو خوش الحانی سے شعر پڑھنے سے روکے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ شریعت کے پردہ کے حکم پر عمل کیا جائے اور فحش کلامی سے بات کی طرف توجہ دلانے والے جذبات سے پرہیز کیا جائے۔اگر قومی ترانے یا وعظ ونیکی کی باتیں یا مناظر قدرت کی تشریح یا قومی جذبات کے اُبھارنے کے اشعار ہوں یا جنگوں کے واقعات یا تاریخی امور ان میں بیان ہوں تو ایسے اشعار کا پڑھنا یا سننا نہ صرف یہ کہ ممنوع نہیں بلکہ بعض اوقات ضروری اور لازمی ہے اور فطرت کے صحیح اور اعلیٰ مطالبہ کا پورا کرنا ہے اور جو شخص اس امر کو ناجائز قرار دیتا یا اسے بُرا مناتا ہے وہ جاہل مطلق ہے اور مذہب اور فطرت کے تعلق اور شریعت کے اسرار سے قطعا ً ناواقف ہے اور پھر شخص رسول کریم ﷺ کے فعل کو دیکھ کر بھی یہ کہتا ہے کہ اگر آپ نے اس کی اجازت دی ہو تو اس سے آپ پر اعتراض آتا ہے اس کی مثال اس پٹھان کی سی ہے جس کی نسبت پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس نے حدیث میں یہ پڑھ کر کہ رسول کریم ﷺ نے نماز میں حرکت کی تھی کہدیا تھا کہ