انوارالعلوم (جلد 9) — Page 368
۳۶۸ ہے۔یہ تمہید باندھ کر وہ آگے اپنا مطلب کہنا چاہتی ہیں جس کے لئے جیسا کہ الفاظ حدیث سے ظاہر ہوتا ہے وہ حضرت عائشہ سے مخاطب ہو کر باتیں کرنے لگتی ہیں۔پس یہ اعتراض ہی بالکل لغو ہے کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے یا یہ کہ آپ کی بیویاں ایسی گستاخ تھیں۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں الفاظ حدیث میں تو اس الزام کی نفی کی گئی ہے۔پس خود الفاظ حدیث ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ناواجب محبت سے اور ام المومنین کو الزام گستاخی سے بری کر رہے ہیں۔پھر تعجب ہے مصنّف صاحب ہفوات کی عقل پر کہ وہ اس سے اُلٹا نتیجہ نکال رہے ہیں اور لفظ کیا کو بالکل نظر انداز کر کے اپنا بغض نکالنا چاہتے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ حضرت عائشہؓ جن سے شطردین سیکھنے کا حکم تھابلا اجازت حضرت زینبؓ کے گھر کیوں چلی گئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ ہرگز زینب کے گھر میں نہیں گئیں پس حضرت عائشہؓ پر اعتراض ہی فضول ہے۔اصل الفاظ حدیث کے یہ ہیں کہ ما علمت حتى دخلت على زينب بغيراذن وھی غضبی ثم قالت يا رسول الله ۱۰۲؎ یعنی مجھے یہ امر نہیں معلوم ہؤا حتی کہ زینب میرے گھر میں بغیراِذن کے داخل ہو گئیں اس حال میں کہ دو غضب میں تھیں۔پھر کہا یا رسول اللہ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب حضرت عائشہ کے گھر میں چلی گئی نہ یہ کہ حضرت عائشہ حضرت زینب کے گھر میں گئیں۔مصنف ہفوات کو دھوکا اس سے لگا ہے کہ ابن ماجہ کے بعض حواشی میں غلطی سے اس کے اُلٹ معنی لکھے گئے ہیں۔چونکہ خود ان کو تمیز نہ تھی انہوں نے بث ان معنوں کو لے کر اعتراض کر دیا۔کسی عرب کے سامنے اس حدیث کو رکھ کر پوچھو وہ یہی معنے کرے گا کہ حضرت زینب حضرت عائشہ کے گھر گئی ہیں نہ حضرت عائشہ حضرت زینب کے گھر۔کیونکہ ما علت و وی بی اور ثم کے الفاظ دوسرے معنی کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔فقرہ کی بناوٹ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ داخل ہونے والی زینب ہیں نہ کہ عائشہ۔ابن ماجہ مطبوعہ مصر میں بھی اس حدیث کو اسی طرح لکھا ہے جس طرح میں نے بیان کیا ہے اور حاشیہ سندی میں لکھاہے وعند مجيئ ب ظهر لها في تمام العتيق - ۱۰۳؎ یعنی نیب کے آنے پر عائشہ کوسب حال معلوم ہوا جس سے معلوم ہوا کہ سندہی کے نزدیک بھی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ زینب عائشہ کے گھر میں آئی تھیں نہ کہ عائشہ زینب کے گھر گئی تھیں۔اس جگہ یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ خواہ زینب عائشہ کے گھر بلا اجازت گئیں یا عائشہ زینب