انوارالعلوم (جلد 9) — Page 352
۳۵۲ حق الیقین کیونکہ رانوں پر گُھٹنوں کا کیا اور کندھوں پر ہاتھوں کا رکھنا بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی حالت کو بتاتا ہے نہ کہ لیٹنے کی حالت کو۔عاتق پر ہاتھ ہمیشہ بیٹے یا کھڑے ہوئے انسان کے رکھا جاسکتا ہے۔اور یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ لیٹے ہوۓ آدمی کی رانوں پر اگر گھٹنوں کو ٹیک دیا جائے تو وہ سخت تکلیف کا موجب ہوتا ہے نہ کہ محبت کے اظہار کا ذریعہ۔غرض جو مفہوم مصنّف ہفوات نے اس روایت سے سمجھا ہے وہ ہرگز درست نہیں بلکہ اس کے الفاظ سے فقط یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ جب گھر میں داخل ہوتے تو اپنی بیویوں کو پیار کرتے اور یہ قابل اعتراض بات نہیں بلکہ ایک اُسوہ حسنہ ہے بشرطیکہ کوئی بے رحم سنگدل یار یا کار صوفی نہ ہو۔بہتان در اعانت شرک از پیغمبر ایک نئے اعتراض کے پیدا کرنے کے لئے پھروہی کتاب فردوس آسیہ مصنف ہفوات کے ہاتھ میں آئی ہے اور اب کے بھی اسی غرض کے لئے کہ اگر اصل کتاب کا حوالہ وہ دے دیں تو اعتراض باطل ہو جاتا ہے۔وہ فردوس آسیہ کے حوالہ سے سنن ابو داود کی یہ روایت درج کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے واپس آئے تو حضرت عائشہ کی گڑیوں کا پردہ ہواسے اُڑگیا آنحضرت نے پوچھا یہ کیا ہے؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ان میں ایک پردار گھوڑا بھی تھا آنحضور نے پوچھا کیا گوڑے کے پَر بھی ہوا کرتے ہیں؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا کیا حضرت سلیمان کے گھوڑے کے پَر نہ تھے پس آنحضرت ہنس کرچُپ ہو گئے۔‘‘ اس روایت کو نقل کر کے مصنّف ہفوات ان الفاظ میں اعتراض کرتا ہے۔’’ راوی نے حضرت عائشہؓ میں طباعی کی فضیلت ظاہر کرنے کی دھن میں رسالت کو غارت کر دیا۔کیونکہ ذی روح کی تصویر سایہ دار کے دیکھنے پر پیغمبر خدا کا ہنس کر چپ رہ جانا منانی رسالت ہے۔بلکہ ان تصاویر کا گھرے اخراج بلکہ احراق شریا تھا جو نہ ہوا اس وجہ سے پیغمبر بشیر و نذیر نہ رہے۔کیونکہ ان سے نہی عن المنكر تک ہو گیا۔پس اس بناء پر ماننا پڑے گا کہ معاذ الله آیت ان الشرک لظلم عظیم ۷۸؎ ہے۔صفحہ ۲۲- ایڈیشن دوسرا۔دوسرا اعتراض مصنف ہفوات نے یہ کیا ہے کہ تبوک کے وقت حضرت عائشہ کی عمر سترہ سال کی تھی اور اس عمر میں بیاہی لڑکیاں بالعموم گڑیاں نہیں کھیلا کر تھیں۔یہ حدیث بے شک ابو داؤد میں ہے۔لیکن اس میں ایک جملہ ایسا بھی ہے جو مصنف ہفوات