انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 330

۳۳۰ کے پاس گئے تھے اور یہ کہ آپ اس کو نکاح کا پیغام دینے گئے تھے اس کو اس نے بالکل چھوڑ دیا تاکہ یہ سمجھاجائے حدیث کا یہ مطلب ہے کہ آپ کسی بد نیتی سے گئے تھے بلکہ اس قدر دلیری سے کام لیا ہے کہ اس اعتراض کو الفاظ میں بھی بیان کر دیا ہے۔یورپ کے لوگ بھی اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔مگر میں نے ایسی بے حیائی ان کی طرف سے بھی نہیں دیکھی کہ اس قدر صریح امر کو آدها بیان کر کے انہوں نے اس پر اعتراض جمائے ہوں۔شاید یہ مصرع کہ ’’چہ دلا درست دزرے کہ کت چراغ دارو‘‘، مصنف ہفوات کی قسم کے لوگوں کو ہی مد نظر رکھ کر کہاگیا ہے۔گو یہ حدیث ہی مصنف ہفوات کے اعتراض کو رد کر دیتی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے پچھلے حصے کو اُڑا دیا ہے تاکہ ان کے اعتراض کا پول نہ کھل جائے۔لیکن میں ابھی دلائل سے ثابت کروں گا کہ مصنف ہفوات نے جان بوجھ کر اس واقعہ کو بگاڑ کر پیش کیا ہے اور ائمہ حدیث پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام کا بھی پاس نہیں کیا۔دوسری حدیث جس کو مصنّف ہفوات نے الگ واقعہ کے طور پر پیش کیا ہے اور جو در حقیقت اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے یہ ہے۔عن ابی اسيد قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم حتى انطلقنا إلى حائط يقال له الشوط حتى انتهینا إلى حائطين فجلسنا بينهما فقال النبي صلى الله عليه وسلم إجلسوا ھھنا ودخل وقدأوتى بالجونية فانزلت في بيت في نخل في بيت أميمة بنت النعمان بن شراحيل و معها دايتھا حاضنة لها فلما دخل عليها النبي صلى الله عليه و سلم قال حبی نفسک لي قالت وھل تهب الملكة نفسها للسوقة قال فاھوی بیدہ يضع يدہ عليها لتسكن فقالت أعوذ باللہ منك قال قد عذت بمعاذا خرج علينا فقال يا أبا اسيد إکسيها رازقيين وألحقها بأهلها ۶۳؎ (ترجمہ) ابواسید رضي الله عنه سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ایک باغ کا رخ کیا جسے شوط کہتے ہیں۔جب ہم دوباغوں کے درمیان پہنچے تو ان کے درمیان میں بیٹھ گئے آپ نے فرمایا یہاں بیٹھے رہو اور آپ باغ کے اندر داخل ہوئے اور اس جگہ جو نیہ پہلے سے ایک گھر میں جو کھجوروں کے درختوں میں تھالا کر رکھی گئی تھی آپ داخل ہوئے امیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے گھرمیں (یہ جونیہ کاہی نام ہے جو نیہ اس کے قبیلہ کی نسبت کی وجہ سے اس کو کہا جاتا تھا) اور اس کے ساتھ اس کی دایہ یعنی کھلائی تھی پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ