انوارالعلوم (جلد 9) — Page 273
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت (فرموده مئی ۱۹۲۶ء) نوٹ: مبلّغ امریکہ حضرت مولوی محمد دین صاحب کی کامیاب مراجعت پر لجنہ اماء اللہ کی طرف سے ان کی خدمت میں ایڈ ریس پیش کیاگیا۔اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسح الثانی نے حسب ذیل تقرر فرمائی:۔میں اسی انتظام دعوت سے پہلے کہہ رہا تھا کہ نہ صرف جس کو مدعو کیا جاۓ اس کی بیوی کو بھی بلانا چاہئے بلکہ جیسا کہ اسلامی طریق ہے درمیان میں پردہ ڈال کر دوسری طرف مدعو کرنے والی عورتیں بھی بیٹھی ہوں۔ہمارے ہاں پنجابی دعوت کا یہ طریق ہے کہ مہمان بیٹھا کھاتاہے اور میزبان ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے مگر اسلامی طریق یہ ہے کہ میزبان بھی کھاتا ہے۔میں پچھلے دنوں سے بجلی کی تاریخ یورپ کے سفر کے بعد کی نہیں بلکہ پہلے کی ہے یہ سمجھ رہا تھا اور میں نے اس کا اس مضمون میں ذکر بھی کیا تھا جو یورپ جانے کے وقت لکھا تھا کہ اسلام پر حملہ کرنے والا اہل مغرب کامذہب نہیں بلکہ ان کا تمدن ہے۔اس تمدن نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ بعض بری باتیں بھی اچھی اور اچھی باتیں بری ہو گئی ہیں۔اگر ہمارے مذہب نے سب اچھی باتیں بیان کی ہیں۔مگر چونکہ مسلمانی در کتاب والا معاملہ ہے مسلمانوں کا ان باتوں پر عمل نہیں۔وہ کتابوں میں بند پڑی ہیں اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہم میں پائی جاتی ہیں اور نہ لوگ یہ بات ماننے کے لئے تیار ہیں۔ورنہ ہماری مثال آریوں کی طرح ہوگی جو ہر ایجاد کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ اس کا ذکر وید میں موجود ہے۔اگر ہم بھی یورپ والوں سے کہیں کہ اچھی باتیں ہمارے مذہب