انوارالعلوم (جلد 9) — Page 250
۲۵۰ اس کے ذہن میں قائم ہو جائے۔اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ جو کام کرنیکا ہوگا اُسے یہ آسانی سے کر سکے گا اور جو چھوڑنے کا ہوگا اُسے آسانی سے چھوڑ سکیگا۔(۸) جو باتیں جائز ہوں اُن کی طرف اُسے رغبت ہو۔انہیں بعض موقعوں پر ترک کر دے، تاکہ مرضی کے خلاف کام کرنے کی اُسے عادت پڑے۔مثلاً ایک شخص کو چوری کی عادت ہو گئی ہے اور دور نہیں ہوتی تو اُسے چاہئے کہ بعض جائز باتیں جن کی طرف اُسے رغبت ہے انہیں چھوڑنا شروع کر دے۔مثلاً ایک وقت دل سونے کو چاہتا ہے اور نہ سوئے۔ایک چیز کے کھانے کو چاہتا ہو اور یہ نہ کھائے۔اس طرح دل کو طاقت حاصل ہوتی چلی جائیگی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے مَیں اس کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔فرماتے ہیں عَرَفْتُ رَبِّیْ بَفَسْخِ الْعَزَائم کہ مَیں نے خدا تعالیٰ کو پختہ ارادوں کے بار بار ٹوٹنے سے پہچانا ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ مَیں نے بعض ارادے کئے جو ٹوٹے۔مَیں نے پھر کئے پھر ٹوٹے لیکن جب مَیں نے بار بار ارادوں کے ٹوٹنے کے باوجود ان کا کرنانہ چھوڑا اور ہمت نہ ہاری تو مجھے خدا تعالیٰ مل گیا۔پہلے ہی اگر مَیں ارادہ کے ٹوٹ جانے پر نااُمید ہو کر بیٹھ رہتا اور پھر عزم نہ کرتا تو مَیں خدا تعالیٰ کے پانے میں ناکام رہتا۔(۹) انسان اپنے نفس کا بار بار مطالعہ کرے جس طرح ایک حکیم مریض کو بار بار دیکھتا ہے۔اِسی طرح وہ اپنے نفس کو دیکھے۔