انوارالعلوم (جلد 9) — Page 230
۲۳۰ اور ادب یہ ہے کہ بڑوں کا احترام کرنا۔(۲۱) اگر لوگوں میں لڑائی ہو تو اُن کی صلح کرانا۔(۲۲) اخوت۔(۲۳) رازداری۔(۲۴) بشاشت۔اَب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو دوسرے جانوروں سے تعلق رکھتی ہیں: (۱) انکی غذا کا خیال رکھنا۔(۲) انکی طاقت کے مطابق ان سے کام لینا۔(۳) جن جانوروں سے کام نہ لیا جائے انکو بھی کھانا دینا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایکدفعہ کئی دن تک بارش ہوتی رہی اور پرندوں کو دانہ نہ ملا۔ایک شخص نے انکو دانہ ڈالا۔اس وجہ سے اُسے ایمان نصیب ہوا اور وہ جنت میں چلا گیا۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔والذین فٓي اموالھم حقّ معلوم۔للسّآئلِ والمحروم (۷۰:۲۵/۲۶) مومنوں کی یہ بھی ایک صفت ہے کہ ان کے مال میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے جو مانگ سکتے ہیں۔اور جو نہیں مانگ سکتے ان کا بھی حصہ ہوتا ہے۔نہ مانگ سکنے والوں میں حیوانات اور پرند شامل ہیں۔اُن کو بھی کھانے کے لئے دینا چاہئے۔(۴) بے زبان جانوروں کی سردی گرمی اور اُن کے شہوانی جذبات اور ان کی اولاد کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔اَب مَیں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو قومی نیکیاں ہیں۔(۱)زکٰوۃ دینا۔(۲) ضروریات قومی کے لئے چندہ دینا۔(۳) مہمان نوازی کرنا۔(۴) خدمتِ قومی کرنا۔(۵) اطاعتِ حکّام۔(۶) حکام سے تعاون کرنا۔(۷) حفاظت ملک کرنا۔(۸) ذمہ داری کا احساس۔(۹) غلطی پر خوشی سے سزا بھگتنا۔(۱۰) اشاعت حسنات یعنی لوگوں کی نیکیاں پھیلانا۔(۱۱) دشمنانِ قوم سے اجتناب کرنا۔(۱۲) قومی عزّت کی حفاظت کرنا۔قوم پر اگر کوئی حرف لاتا ہو تو اس کی تردید کرنا۔(۱۳) تجارت میں ایمانداری اور دیانتداری اختیار کرنا۔(۱۴) تعلیم دینا۔(۱۵) تربیت کرنا۔اب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔(۱) ایمان میں کامل ہونا۔(۲) محبتِ الٰہی۔(۳) اعمال شریعت، عبادات اور معاملات کو پورا کرنا۔(۴) رجا یعنی خدا تعالیٰ پر اُمید رکھنا۔(۵) خوف یعنی خدا تعالیٰ کی عظمت سے خوف رکھنا۔(۶) دلی پاکیزگی۔(۷) توکل یعنی باوجود اپنی طرف سے کوشش کرنے کے یہ احساس ہونا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی نصرت آئیگی تب کامیابی ہوگی۔(۸) اخلاقِ حسنہ سے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اُنکا خیال رکھنا۔جیسے عہد کی پابندی وغیرہ ہے۔(۹) تمام عقائدِ باطلہ کا ردّ کرنا۔(۱۰) اللہ تعالیٰٰ کی شان میں اگر کوئی شخص بے ادبی کرے مثلاً کہے اُس نے مجھے کیا دیا ہے۔مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے تو اُسے سمجھانا کہ یہ خدا تعالیٰ کے ادب کے خلاف ہے اس سے باز رہو۔(۱۱) تبلیغ حق، شعائر