انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 229

۲۲۹ ہونا۔(۲۱) اپنے حق کی خاطر مقابلہ کرنیکی قوت۔یہ اور بات ہے کہ کسی پر عفو کرکے کوئی اپنا حق چھوڑ دے۔یا یوں اپنی سُستی سے نہ لے لیکن کسی سے دب کر حق نہیں چھوڑنا چاہئے۔(۲۲) سباق کی قوت یعنی یہ طاقت کہ نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکلوں۔(۲۳) اپنی ہزیمت اور شکست تسلیم نہ کرنا۔خواہ کئی دفعہ ہارے۔مگر اپنی ہار نہ مانے۔یہ مطلب نہیں کہ منہ سے اقرار نہ کرے بلکہ اس پر راضی نہ ہو۔اور اس کے اثر کو دور کرنیکی کوشش کرتا رہے۔(۲۴) چوکس رہنا۔یعنی اپنے دشمن سے غافل نہ ہونا۔(۲۵) اقرار حق (۲۶) قوت برداشت کا ہونا۔یعنی تکلیفیں برداشت کرنے کی طاقت ہونا۔(۲۷) جفاکشی کا عادی۔خواہ کتنا کام آپڑے گھبرائے نہں۔(۲۸) جرأت۔(۲۹) نیکی سے محبت (۳۰) لوگوں کی مدد کی خواہش کہ اگر موقعہ ملے تو ضرور مدد کروں۔(۳۱) سادہ زندگی بسر کرنا۔اپنے نفس کی آسائش پر روپیہ زیادہ صرف نہ کرنا۔(۳۲) اپنی عزّت کی حفاظت کرنا۔(۳۳) دوسروں کی خوبیوں کا اقرار کرنا۔(۳۴) ہر بات میں میانہ روی اختیار کرنا۔اَب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو دوسروں سے تعلق رکھتی ہیں: فرشتوں سے تعلق رکھنے والی نیکیاں یہ ہیں:- (۱) ذکر الٰہی- لکھا ہے جہاں ذکر الٰہی ہوتا ہے وہاں فرشتے ٹوٹ ٹوٹ پڑتے ہیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں۔وہاں فرشتے گھیرا ڈال لیتے ہیں۔(۲) طہارت ظاہری۔یہی وجہ سے کہ جہاں ملائکہ کے نزول کے مواقع ہوتے ہیں وہاں خوشبولگا کر جانے کا حکم ہے۔جیسے جمعہ کے لئے نہانا اور خوشبو لگانا مسنون ہے۔اَب میں وہ نیکیاں بیان کرتا ہوں جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں:- (۱) عدل۔(۲) احسان۔(۳) احسان کا شکریہ۔(۴) صفائی پسندی۔(۵) سخاوت (۶) وفاداری۔(۷) رحم کرنا عملاً۔(۸) دوستانہ۔(۹) حلم۔اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسکے جو نیک پہلو ہوں انکو سوچ کر چھوڑ دینا۔عفو تو یہ ہے کہ قصوروار سمجھ کر معاف کر دینا۔مگر حلم یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کی وجہ سے درگذر کرنا۔(۱۰) ایثار۔(۱۱)قرض روپیہ دینا۔(۱۲) صدقہ۔(۱۳) تعاون۔(۱۴) دیانت۔(۱۵) صلح جوئی۔یعنی صلح کی کوشش کرنا۔(۱۶) عفو یعنی معاف کردینا۔(۱۷) عہد کی پابندی۔(۱۸) گِرے ہوئے لوگوں کو بلند کرنے کی کوشش کرنا۔(۱۹) دوسروں کا اعزاز اور اکرام کرنا۔(۲۰) دوسروں کا ادب کرنا۔اعزاز تو یہ ہے کہ جو برابر کا ہے اس کی عزت کرنا۔